سابق جج سنجے کشن کول

Screenshot 2026 10 26 at 2.07.00 PM


دی وائر کے لیے کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابق جج سنجے کشن کول۔

سپریم کورٹ کے سابق جج سنجے کشن کول نے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی میعاد پر کئی سوال اٹھائے ہیں۔ دی وائر کو دیے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ عدالتی تقرریوں کے معاملے میں جسٹس چندرچوڑ کو سرکار کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے پیش آنا چاہیے تھا۔ اپنی کتاب میں انہوں نے کالجیم کی بیٹھک سے پہلے ہی سرکار کی منظوری لینے کا ذکر بھی کیا ہے۔

نئی دہلی: ہندوستان کے سابق چیف جسٹس دھننجے یشونت چندرچوڑ ’میری ان سے جو امیدیں تھیں، ان پر کھرے نہیں اترے۔‘یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج سنجے کشن کول نے سنیچر (24اکتوبر)کو دی وائر کے لیے کرن تھاپر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔جسٹس کول سپریم کورٹ کے سابق جج ہیں اور چندرچوڑ کے چیف جسٹس رہنے کے دوران سینیارٹی کے لحاظ سے ان کے بعد سب سے سینئر جج تھے۔ حال ہی میں ان کی کتاب ود آؤٹ فِیئر اَور فیورشائع ہوئی ہے۔ اس انٹرویو میں انہوں نے اس دور سے متعلق کئی اہم اور تنقیدی باتیں کھل کر بیان کیں۔

اپنی کتاب میں جسٹس کول نے لکھا ہے کہ ایک بار اس وقت کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے سپریم کورٹ کے کالجیم کی بیٹھک ہونے سے پہلے ہی حکومت سے ’منظوری‘مانگی تھی۔ ایک دوسرے موقع پر انہوں نے اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے  جج کے عہدے کےایک امیدوار کی کاسٹ کے بارے میں حکومت کی جانب سے کی گئی ’عجیب‘پوچھ گچھ کا معاملہ بھی کالجیم کے سامنے رکھا تھا۔

انٹرویو میں جسٹس کول نے بتایا کہ ججوں کی تقرری کے لیے کالجیم پانچ ناموں پر متفق ہو گیا تھا، لیکن چیف جسٹس چھٹا نام بھی شامل کرنا چاہتے تھے۔ یہ نام آخری وقت میں سامنے رکھا گیا تھا، جسے جسٹس کول اور کالجیم کے دیگر ارکان قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

جسٹس کول نے کہا، ’ہو سکتا ہے کہ انہوں نے چھٹے نام سمیت باقی ناموں کے لیے بھی حکومت سے کسی کسی طرح کی منظوری  پہلے ہی لے لی  تھی۔‘

انہوں نے مزید کہا،’بدقسمتی سے اب یہ ایک چلن بن گیا ہے کہ ناموں پر چرچہ ہوتی ہے اور حکومت کے ساتھ پہلے سے ہی کسی نہ کسی طرح کی بات چیت کر لی جاتی ہے۔ ایسا پہلے بھی ہوتا تھا اور مجھے لگتاہے کہ چندرچوڑ سے پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور ان کے بعد بھی ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بات مجھے پریشان کرتی ہے۔‘

جب جسٹس سنجے کشن کول سے پوچھا گیا کہ دونوں سینئر ججوں کے درمیان اکثر اختلافات کیوں ہوتے تھے، تو انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سے توقعات کہیں زیادہ تھیں۔ انہوں نے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کو ’دھن‘کہہ کر مخاطب کیا۔

انٹرویو میں انہوں نے کہا، ’دھن ایسے شخص تھے جن سے بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں۔ ان کی میعاد کے آغاز میں، میں نے ان سے کہا تھا کہ میں ان کی مدد کروں گا۔ دوسرے سینئر جج کا کردار چیف جسٹس کو پریشان کرنا نہیں، بلکہ ان کا ساتھ دینا ہوتا ہے۔ لیکن شاید چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے کے ہمارے طریقے مختلف تھے۔‘

اس کے بعد انہوں نے سرکار کے فیصلوں سے نمٹنے کے سابق چیف جسٹس کے طریقے سے اختلاف ظاہر کیا۔

انہوں نے کہا،’مجھے لگا کہ حکومت کے ساتھ بات چیت کرتے وقت، خصوصی طور پر ججوں کی تقرری کے معاملے میں، ہمیں زیادہ مضبوط موقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔‘

انٹرویو میں جسٹس سنجے کشن کول نے اپنی کتاب میں درج انسداد منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے)سے متعلق ایک معاملے کا بھی تفصیل سے ذکر کیا۔ اس معاملے کو اس بنچ سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تھی جس کی سربراہی وہ کر رہے تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اس واقعہ نے ’چیف جسٹس اور میرے درمیان دراڑ پیدا کر دی تھی۔‘

تین ججوں کی بنچ میں سماعت کے دوران، جب ان کے ایک ساتھی جج نے انہیں بتایا کہ معاملہ کسی دوسری بنچ کے سامنے چلا گیا ہے، تو اس سے انہیں ’پریشانی ہوئی۔‘انہوں نے کہا، ’میں نے اس بارے میں چیف جسٹس سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک جج نے اپنے سامنے اور اپنی بنچ کے سامنے موجود تمام معاملوں کو ایک ساتھ جوڑ کر سماعت کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس پر میں نے کہا کہ چیف جسٹس کی رضامندی کے بغیر ایسا نہیں کیا جا سکتا تھا۔‘

اپنی یادداشتوں میں جسٹس کول بتاتے ہیں کہ آخرکار یہ معاملہ تین ججوں کی ایک بنچ کے سامنے رکھا گیا، جس میں وہ خود بھی شامل تھے۔ تاہم، سماعت کے دوران چیف جسٹس سے بات چیت کرتے وقت، جسٹس سنجیو کھنہ کی موجودگی میں ان سے کہا گیا کہ ’احتیاط برتنا ہی زیادہ دانشمندی ہوگی‘اور انہیں بیچ راستہ اختیار کرنا چاہیے۔‘

سال2015میں قومی عدالتی تقرری کمیشن(این جے اے سی)کو رد کیے جانے کے بارے میں جسٹس سنجے کشن کول لکھتے ہیں کہ انہیں لگا تھا کہ کمیشن کو ’کام کرنے کا ایک موقع دیا جانا چاہیے تھا۔‘

وہ لکھتے ہیں، ’ حکومت سے مشورہ لینے اور اس سے پہلے ہی منظوری حاصل کر لینے میں فرق ہے۔ میرے خیال میں کالجیم کی باضابطہ میٹنگ میں بحث ہونے سے پہلے ہی حکومت کی رضامندی طلب کرنا پہلے سے منظوری لینے کے مترادف ہے۔ اس سے غلط پیغام جاتا ہے۔ اگر آپ سیاسی طبقے کو ایک بار بھی مداخلت کا موقع دیتے ہیں تو وہ اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کرے گا۔ یہ کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اقتدار کےکام کرنے کے فطر ی طریقے سے متعلق سوال ہے۔‘

کچھ دن پہلے مدراس ہائی کورٹ کے سابق جج کے چندرو نے الزام لگایا تھا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری اب کالجیم کے بجائے سیدھے وزیر اعظم نریندر مودی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014میں مرکز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد مودی حکومت نے قومی عدالتی تقرری کمیشن (این جے اے سی)قائم کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے اس قانون کو رد کر دیا۔چندرو کے مطابق، اس کے بعد سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے تمام ججوں کی تقرری مودی نے براہ راست کی ہے، کالجیم نے نہیں۔ چندرو نے کہا کہ حکومت نے این جے اے سی کو دوبارہ نافذ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی، کیونکہ اسے کمیشن کے سے زیادہ فائدہ مند طریقے مل گئے تھے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ