آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کا معاملہ، امریکی فوج نے ایرانی میڈیا کی رپورٹس مسترد کردیں

strait of hormuz1793260805 0


امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایرانی میڈیا کی ان رپورٹس کو مسترد کردیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا رہے ہیں۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اس اہم بحری گزرگاہ کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مرکزی بحری راستوں کو بارودی سرنگوں سے پاک کردیا ہے اور یہ راستے اب بھی محفوظ ہیں۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے 28 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ان خبروں کو غلط قرار دیا جنہیں اس نے ایرانی کنٹرول والے میڈیا سے منسوب کیا۔

سینٹ کام کے مطابق آبنائے ہرمز کے تمام بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مرکزی بحری راستوں سے سمندری بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں۔ امریکی کمانڈ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہزاروں تجارتی جہاز ان راستوں سے بحفاظت گزر چکے ہیں اور جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔

یہ بیان سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کے ان سابقہ بیانات کے تسلسل میں سامنے آیا ہے، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے مرکزی بحری راستے ایرانی سمندری بارودی سرنگوں سے پاک اور محفوظ ہیں۔

دوسری جانب، خطے میں ایرانی دھمکیوں اور آئل ٹینکروں کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق متضاد اطلاعات کے باعث بحری صنعت میں تشویش برقرار ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس گزرگاہ میں بارودی سرنگوں یا سکیورٹی خطرات سے متعلق اطلاعات عالمی توانائی کی منڈیوں اور تجارتی جہازرانی کو متاثر کرسکتی ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ