کچھ تقریبات صرف منعقد نہیں ہوتیں، تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ کچھ تحائف محض تحائف نہیں ہوتے، ان کے اندر برسوں کی محنت، قربانیوں، یادوں اور جدوجہد کی داستان چھپی ہوتی ہے۔ اور کچھ لوگوں کو اعزاز دیتے ہوئے دراصل ہم اپنی پوری کمیونٹی کی تاریخ کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہوتے ہیں۔25 اکتوبر 2026ء کی صبح میرے لیے بھی ایسی ہی ایک صبح تھی۔
اب جب کہ اس ملک جسے ہم وطن ثانی نہیں بلکہ اپنا حقیقی ملک تسلیم کر چکے ہیں یہاں میری زندگی کے پچیس سال سے زیادہ گزر چکے ہیں۔لیکن یہاں پر ایسے افراد بھی مقیم ہیں جو ہم سے بھی پچیس سال قابل یہاں آکر آباد ہوئے ہیں جنھیں اب یہاں پر رہتے ہوئے پچاس اور ساٹھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ٹورنٹو اور اس سے ملحقہ شہروں مسی ساگا ، ملٹن اور برامپٹن میں پاکستانی کمیونٹی بہت بڑی تعداد میں مقیم ہے۔ یہاں ایسے لوگ بھی آباد ہیں جو 1963ء، 1965ء، 1968ء اور 1969ء میں کینیڈا آئے تھے۔
ذرا تصور کیجیے، ان لوگوں نے اپنی زندگی کے پچاس، ساٹھ سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ اس سرزمین پر گزارا۔ کتنی محنت کی ہوگی، کتنے موسم دیکھے ہوں گے، کتنی مشکلات کا سامنا کیا ہوگا، کتنے خواب پورے کیے ہوں گے اور کتنی خواہشیں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے قربان کی ہوں گی۔ان میں سے بہت سے لوگ جب یہاں آئے ہوں گے تو ان کے پاس وسائل محدود تھے، مگر حوصلے بڑے تھے۔ ایک نئے ملک میں اپنی جگہ بنانا، روزگار حاصل کرنا، خاندان بسانا، بچوں کی تعلیم و تربیت کرنا اور اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے معاشرے کا حصہ بننا کوئی معمولی بات نہیں۔ان میں سے اکثریت کے بچے اب ڈاکٹر،انجینئرز اور لائرز بن کر کینیڈین معاشرے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
میں اکثر سوچتا تھا کہ ان لوگوں کی زندگیوں کو تسلیم کرنے اور ان کی جدوجہد کو نئی نسل کے سامنے لانے کے لیے کچھ ہونا چاہیے۔پھر قدرت نے ایک موقع فراہم کر دیا۔
سندھ کے گورنر، سید نہال ہاشمی، کینیڈا کے تین روزہ دورے پر تشریف لائے۔گورنر سندھ کی آمد پر میرے ذہن میں خیال آیا کہ انھیں اپنے گھر مدعو کرنے کے ساتھ ایک ایسا کام بھی کیا جائے جو دیرپا یادگار بن سکے۔کیوں نہ کینیڈا میں پچاس سال مکمل کرنے والے پاکستانیوں کو گورنر سندھ کے ہاتھوں اعزاز دیا جائے؟ یہ خیال دل میں آیا تو میں نے اسے عملی شکل دینے کا فیصلہ کر لیا۔
میری خواہش تھی کہ اعزاز پانے والے افراد کو ایسی یادگار دی جائے جو عام شیلڈ یا سرٹیفکیٹ سے مختلف ہو، جسے وہ اپنے گھر میں سنبھال کر رکھیں اور برسوں بعد بھی دیکھیں تو انھیں اس دن کی خوشی یاد آئے۔
قائداعظم محمد علی جناحؒ کی گھڑی اور ان کے روایتی لباس سے وابستہ تاریخی تصاویر میرے ذہن میں تھیں۔ اسی تصور سے تحریک لیتے ہوئے میں نے پچاس سالہ سفر کی مناسبت سے ایک خوبصورت، ذاتی نوعیت کی یادگاری گھڑی تیار کروائی، جس پر ’’50 Years Recognition‘‘ درج تھا۔
اس کے ساتھ ایک نفیس اور خوبصورت فولڈر تیار کیا گیا، جس میں اعزازی سرٹیفکیٹ رکھا گیا۔ اس سرٹیفکیٹ کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی کہ گورنر سندھ نے اس پر اپنے مخصوص سبز قلم سے دستخط کیے۔
میرے لیے یہ محض ایک یادگاری گھڑی، فولڈر یا سرٹیفکیٹ نہیں تھا۔ یہ ان لوگوں کی زندگی کے پچاس برسوں کو سلام تھا۔ یہ ان کی محنت، قربانیوں اور کینیڈا کے معاشرے میں ان کے طویل سفر کا اعتراف تھا۔سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوئی جب ایسے افراد اور خاندان سامنے آئے جنھوں نے کینیڈا میں پچاس سال مکمل کر لیے تھے۔ مجموعی طور پر سولہ افراد اور جوڑوں کو اس اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا۔ ان میں سے کئی افراد اپنی شریکِ حیات کے ساتھ تشریف لائے۔ان کے چہروں پر خوشی دیکھ کر محسوس ہوا کہ بعض اوقات انسان کو دولت یا کسی بڑے منصب کی نہیں، صرف اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی اس کی زندگی بھر کی محنت کو تسلیم کرے۔
کسی کے لیے یہ کینیڈا میں گزارے گئے پچاس سالوں کی یاد تھی، کسی کے لیے اپنے بچوں اور خاندان کے ساتھ طے کیا گیا طویل سفر، اور کسی کے لیے اس بات کا فخر کہ اس نے ایک نئے ملک میں اپنی زندگی بنائی اور اپنی اگلی نسل کے لیے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھی۔
گورنر سندھ کے ہاتھوں یادگاری گھڑی اور دستخط شدہ سرٹیفکیٹ وصول کرنا ان کے لیے ایک خاص لمحہ تھا۔ میرے لیے بھی یہ دیکھنا انتہائی اطمینان بخش تھا کہ ایک سادہ سا خیال اتنی خوشی کا سبب بن سکتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہماری کمیونٹی میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جن کی کہانیاں ابھی تک پوری طرح سامنے نہیں آئیں۔ ہمیں ان کی خدمات اور جدوجہد کو محفوظ کرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ ان کے بزرگوں نے کن حالات میں اپنے خاندانوں کے لیے راستے بنائے تھے۔
انسان جب ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہوتا ہے تو وہ صرف اپنا سامان نہیں لاتا؛ وہ اپنے خواب، اپنی ثقافت، اپنی زبان، اپنی یادیں اور اپنے مستقبل کی امیدیں بھی ساتھ لاتا ہے۔میں خود 2001ء میں کینیڈا آیا تھا۔ یہاں اپنے کاروبار کو قائم کرنے اور اپنی زندگی بنانے میں وقت لگا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بہت کچھ عطا کیا۔ مگر زندگی کے اس مرحلے پر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کامیابی کی اصل خوبصورتی صرف یہ نہیں کہ انسان نے اپنے لیے کیا حاصل کیا، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے کیا کر سکتا ہے۔
ایک گھر صرف اینٹوں اور دیواروں سے نہیں بنتا۔ وہ تب گھر بنتا ہے جب اس کے دروازے دوستوں کے لیے کھلیں، اس کے صحن میں کمیونٹی جمع ہو اور اس کی چھت کے نیچے لوگوں کو عزت اور اپنائیت محسوس ہو۔اسی طرح کاروبار بھی صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر انسان کے پاس وسائل، تعلقات اور مواقع ہوں تو وہ ان کے ذریعے معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
14اگست کو پاکستان کی آزادی کا جشن ہو یا یکم جولائی کو کینیڈا ڈے کی تقریب، میری کوشش یہی رہتی ہے کہ ہم اپنی پاکستانی شناخت اور کینیڈین وابستگی دونوں کو محبت اور احترام کے ساتھ منائیں۔اور اس مرتبہ پچاس سال مکمل کرنے والے پاکستانیوں کو اعزاز دینا اسی سوچ کا ایک حصہ تھا۔ گورنر سندھ سید نہال ہاشمی، ان کے وفد، تمام معزز مہمانوں، میرے دوستوں اور میری فیملی کا میں دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔ یہ تقریب ہم سب کی مشترکہ کوشش سے ممکن ہوئی۔
میری خواہش ہے کہ مستقبل میں بھی ہم ایسے لوگوں کو تلاش کریں جنھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کینیڈا میں گزارا، جنھوں نے اپنے خاندانوں کے لیے محنت کی، اپنی کمیونٹی کی خدمت کی اور خاموشی سے اس معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہجرت کی تاریخ صرف ان لوگوں کی کہانی نہیں جو کسی ملک میں نئے نئے آتے ہیں؛ یہ ان لوگوں کی داستان بھی ہے جنھوں نے دہائیوں تک وہاں رہ کر اپنے گھر، اپنے خاندان اور اپنی نئی نسل کا مستقبل بنایا۔
کسی بھی تقریب کی کامیابی صرف مہمانوں کی تعداد سے نہیں ہوتی۔ اس کا اصل حسن ان انتظامات، خلوص اور محبت میں ہوتا ہے جو پس منظر میں کام کرنے والے لوگ پیش کرتے ہیں۔ مہمانوں کے لیے لائیو حلوہ پوری اور لاہور کی مشہور کچوریوں کا اہتمام بھی کیا گیا۔ صبح کا وقت، دوستوں کی محفل، پرانی یادیں، خوش گپیاں، پاکستانی ناشتے کی خوشبو اور اعزاز حاصل کرنے والوں کے خوشی سے بھرے چہرے—ان سب نے مل کر ماحول کو یادگار بنا دیا۔
لوگوں نے ناشتے سے لطف اٹھایا، ایک دوسرے سے ملاقات کی اور اس تقریب کو صرف ایک رسمی پروگرام کے بجائے ایک خاندانی اور کمیونٹی اجتماع بنا دیا۔اس دن کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ تقریب کے اختتام پر گورنر سندھ کو اسی روز دوپہر پاکستان کے لیے روانہ ہونا تھا۔ اس کے باوجود ان کی شرکت نے اس اجتماع کو ایک خاص اہمیت دی۔تقریب میں گورنر سندھ کے علاوہ کینیڈین ممبر آف پارلیمنٹ اسلم رانا، ٹورانٹو میں تعینات کونسل جنرل خلیل احمد باجوہ اور ڈپٹی کونسل جنرل محمد حسن نے بھی شرکت کی۔

