عرب جوائنٹ لسٹ گادی آیزن کوٹ کو پرائم منسٹر بنانے کیلئے ووٹ دےگی، لیکود کا سپیکر بھی ہٹوائے گی

news 1793487088 3282



news 1793487088 3282

 (وسیم عظمت)  عرب سیاسی گروپوں کی’جوائنٹ لسٹ‘ (Joint List) کے سینئیر رکنِ کنیست (MK) احمد طیبی نے اس بات کی حمایت کی ہے کہ جوائنٹ لسٹ کو نئی حکومت بنانے میں مدد اور ووٹ کرنا چاہئے۔ لیکن انہوں نے کہا، مجھے وزیر بننے کا کوئی شوق نہیں۔ 

’جوائنٹ لسٹ‘ میں دوسرے نمبر کے رہنما تصور کئے جانے والے  عرب نژاد تجربہ کار رکنِ کنیست احمد طیبی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نیتن یاہو مخالف صیہونی پارٹیوں کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ وہ موجودہ (رخصت پذیر) اتحادی حکومت کی جگہ ایک نئی حکومت تشکیل دے سکیں؛ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود اس حکومت کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ انہوں نے اپوزیشن کے سرکردہ امیدوار گادی آئزن کوٹ پر زور دیا کہ وہ ”مرحوم وزیر اعظم اسحاق رابن جیسا کردار ادا کریں“، جنہوں نے پی ایل او (PLO) کے ساتھ اوسلو معاہدوں کی منظوری کے لیے عرب اراکینِ کنیست کے ووٹوں پر انحصار کیا تھا۔   

طیبی، جن کی ’جوائنٹ لسٹ‘ (جو تین عرب دھڑوں پر مشتمل ہے) نے منگل کے انتخابات میں 11 نشستیں حاصل کی ہیں،  طیبی نے ’چینل 12‘ کو بتایا: ”ہم ہر اس شخص کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو اس بدترین حکومت کو گرانا چاہتا ہے… اور اس کی جگہ کوئی دوسری حکومت لانا چاہتا ہے۔ ہم اصلاح کا حصہ بننا چاہتے ہیں، امید کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔“

انہوں نے زور دے کر کہا، ”ہم حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ مجھے کوئی وزارتی عہدہ نہیں چاہیے۔ میں کابینہ میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”لیکن عرب جماعتوں کے بغیر کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔“ انہوں نے ان انتخابی نتائج کا حوالہ دیا جن کے مطابق نیتن یاہو مخالف جماعتوں کو 120 رکنی کنیسٹ میں 67 ووٹ حاصل ہوئے ہیں، جن میں سے 19 ووٹ دو عرب جماعتوں کے ہیں۔ (دوسری عرب جماعت ’رعام‘ نے آٹھ نشستیں حاصل کی ہیں۔)

بہت بڑے ووٹر ٹرن آؤٹ کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے طیبی نے کہا کہ عرب حلقوں کی جانب سے غیر معمولی ٹرن آؤٹ (ووٹنگ میں شرکت) اور اس کے نتیجے میں کنیست میں عرب نمائندگی کا مطلب یہ ہے کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو حکومت تشکیل نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ عرب حلقوں کا یہ ”بہادرانہ ووٹ“ نیتن یاہو کے اتحاد کے خلاف ”اپنے دفاع کا ایک عمل“ تھا۔

جوائنٹ لسٹ سات اکتوبر حملے کے تحقیقاتی کمیشن کیلئے ووٹ دے گی، لیکودی سپیکر کو ہٹانے اور چینج بلاک کا پرائم منسٹر لانے کیلئے ووٹ دے گی

احمد طیبی نے اشارہ دیا کہ ’جوائنٹ لسٹ‘ صدر اسحاق ہرزوگ کو یہ تجویز دے گی کہ نیتن یاہو مخالف صیہونی جماعتوں میں سے کسی امیدوار کو — غالباً گادی آئزن کوٹ کو — مخلوط حکومت بنانے کا مینڈیٹ (اختیار) دیا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی لیکود کے کنیست سپیکر امیر اوہانا کو معزول کرنے کے لیے ووٹ کی حمایت کرے گی، اور جوائنٹ لسٹ اشارہ کرتی ہے کہ وہ 7 اکتوبر 2023، حماس کے حملے اور قتل عام کی تحقیقات کا ریاستی کمیشن قائم کرنے کے لیے ووٹ کی حمایت کرے گی۔ یہ دو ووٹ ہیں جنہیں نیتن یاہو مخالف بلاک 10 نومبر کو کنیسٹ کی حلف برداری کے بعد ترجیح دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

طویل مدتی حمایت کا اشارہ دیتے ہوئے،طیبی یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی حکومت میں لیکود کی طرف سے شروع کی گئی عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت نہیں کرے گی جسے وہ قائم ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، اور کنیسٹ کو تحلیل کرنے کے لیے اپنی تحریک شروع نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھیئے:  اسرائیل میں نئی حکومت بنائیں گے، حماس کی مذمت لیکن دہشتگرد نہیں کہیں گے، عرب جوائنٹ لسٹ کے لیڈر کا اعلان 

طیبی نے اس خیال کو مسترد کیا کہ  جوائنٹ لسٹ  کو قطر یا کسی دوسرے ملک سے غیر قانونی انتخابی فنڈنگ حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ شن بیٹ کے سربراہ ڈیوڈ زینی نے سنٹرل الیکشن کمیٹی کے سربراہ جسٹس نوم سوہلبرگ کو مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کا اعلان کرنے کے لیے "ہیرا پھیری” کی، اور زینی نے ایسا انتخاب میں امیدوار نیتن یاہو سے ملاقات  کرنے کے بعد کیا۔ "کیا یہ آپ کے لیے قابل قبول ہے؟” طیبی پوچھتا ہے، پیشین گوئی کرتے ہوئے کہ (قطر کی فنڈنگ کے الزام کی)تفتیش کہیں نہیں جائے گی۔

یہ بھی پڑھیئے:  عربوں والی حکومت ملک کو بچائے گی! اسرائیل میں آج عرب+ چینج بلاک اتحاد کیلئے مظاہرے 





Source link

متعلقہ پوسٹ