پاکستان کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم نے اسٹار بیٹر بابر اعظم پر ہونے والی تنقید پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی سابقہ کامیابیوں اور قومی کرکٹ کے لیے خدمات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
پاکستان نے انگلینڈ اور سری لنکا کے خلاف ون ڈے ٹرائی نیشن سیریز جیت لی، تاہم بابر اعظم کی بیٹنگ فارم بدستور تنقید کی زد میں ہے۔ سری لنکا کے خلاف فائنل میں وہ صرف 5 گیندوں پر بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے تھے، تاہم فخر زمان کی شاندار 127 رنز کی اننگز کی بدولت پاکستان نے 3 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں عماد وسیم نے بابر اعظم کو سپر اسٹار اور پاکستان کے بہترین ون ڈے بیٹرز میں سے ایک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً ایک دہائی کی مسلسل کارکردگی اور کامیابیوں کو مشکل وقت کی وجہ سے فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
I genuinely fail to understand the level of criticism Babar Azam faces from our own fans and former cricketers.
Let’s get one thing straight: Babar Azam is a superstar and one of the finest ODI batters Pakistan has produced. Nearly a decade of world-class performances,…
— Imad Wasim (@simadwasim) October 31, 2026
عماد وسیم نے واضح کیا کہ بابر کی فارم پر سوال اٹھانا، ان کی تکنیک کا تجزیہ کرنا اور کارکردگی پر بحث کرنا درست ہے کیونکہ کوئی بھی کھلاڑی تنقید سے بالاتر نہیں۔ تاہم انہوں نے ذاتی مقاصد، حسد اور کردار کشی کو کرکٹ تجزیے کا نام دینے پر تنقید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ بابر کی کمزوریوں کی نشاندہی کے ساتھ بہتری کے لیے تعمیری تجاویز بھی دی جانی چاہئیں۔ پاکستان کرکٹ کو اپنے بڑے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، نہ کہ مشکل وقت میں انہیں تنقید کا نشانہ بنا کر ان کی سابقہ کامیابیاں بھلا دی جائیں۔

