وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں، اہم فیصلہ جاری
‘سپریم کورٹ کے فیصلوں کی فیڈرل آئینی عدالت کے لیے صرف قائل کرنے والی حیثیت ہے’
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) نے قرار دیا ہے کہ آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں تاہم آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں سے رہنمائی لے سکتی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواستوں کے دائرہ کار اور ان سے متعلق قواعد واضح کردیے ہیں۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلوں کی فیڈرل آئینی عدالت کے لیے صرف قائل کرنے والی حیثیت ہے، سپریم کورٹ کی قانونی نظیر اگر قانون و آئین سے ہم آہنگ ہو تو ایف سی سی اسے اختیار کرسکتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریویو کا دائرہ اختیار انتہائی محدود اور مخصوص ہے، ریویو صرف ریکارڈ پر ظاہر ہونے والی غلطی یا ایسی کوتاہی تک محدود ہے جس سے انصاف کا قتل عام ہو، ریویو درخواست کیس پر دوبارہ بحث کا موقع نہیں، عدالت ریویو میں کیس کی دوبارہ سماعت نہیں کرتی بلکہ ریکارڈ پر ظاہر ہونے والی غلطی دیکھتی ہے، ریویو درخواستیں معمول کے طور پر دائر کرنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ فریقین اور وکلاء صرف حقیقی طور پر جائز بنیاد موجود ہونے پر ریویو درخواستیں دائر کریں، فضول یا بدنیتی پر مبنی ریویو درخواست پر کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات عائد کیے جا سکتے ہیں تاہم اس پر ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے خلاف تادیبی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔
فیصلے کے تحت ریویو درخواست دائر کرنے سے پہلے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ یا فریق کو وجوہات پر مبنی سرٹیفکیٹ دینا ہوگا، ریویو درخواست کی سماعت کے لیے 50 ہزار روپے بطور سیکیورٹی جمع کرانا لازم ہے، ریویو درخواست خارج یا فضول و بدنیتی پر مبنی قرار پانے پر سیکیورٹی ضبط کی جاسکتی ہے۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ مناسب مقدمات میں نظرثانی درخواست کو زبانی سماعت کے بغیر سرکولیشن کے ذریعے بھی نمٹایا جاسکتا ہے۔
فیصلے میں آرٹیکل 175F(1)(c) کی تشریح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے آرٹیکل 199 کے تحت دیے گئے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے وفاقی آئینی عدالت سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہے، لیو ٹو اپیل حق کے طور پر اپیل نہیں، لیو ملنے کے بعد ہی درخواست اپیل کی حیثیت اختیار کرتی ہے۔
عدالت کے مطابق لیو ٹو اپیل مسترد کرنے کا مطلب لازماً ہائیکورٹ کے فیصلے کی توثیق نہیں، اس اپیل پر عدالت کے لیے تفصیلی وجوہات دینا ضروری نہیں، غیر تفصیلی حکم یا نان اسپیکنگ آرڈر بذات خود ریویو کا جواز نہیں، لیو ٹو اپیل کے مرحلے پر عدالت کسی قانونی سوال یا انصاف کے قتل عام کو روکنے کی ضرورت کا جائزہ لیتی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی ریویو درخواست مسترد کرتے ہوئے جمع کرائی گئی سیکیورٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا اور کہا کہ بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی جانب سے ریویو میں کوئی ایسی غلطی کی نشاندہی نہیں کی گئی جو ریکارڈ پر ظاہر ہو، ریویو درخواست میں پہلے اٹھائے گئے نکات ہی دوبارہ پیش کیے گئے، لیز کی بحالی اور قبضے سے متعلق بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی درخواست مسترد کردی گئی۔
بعدازاں عدالت نے لیز کی بحالی اور قبضے سے متعلق کمپنی کی درخواست بھی مسترد کردی۔

