دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی خطاب کرتے ہوئے ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
دہلی کے رام لیلا میدان میں ’انڈیا‘ اتحاد کی ریلی میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر’ووٹ چوری‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپوزیشن بی جے پی کے دو رہنماؤں – نریندر مودی اور امت شاہ کا سامنا کرے گی۔
نئی دہلی:اتوار (1 نومبر) کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں ’انڈیا‘ اتحاد کی میگا ریلی سے خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر ’ووٹ چوری‘ کا الزام لگایا اور کہا کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اپوزیشن جوابدہی اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گا۔
معلوم ہو کہ رام لیلا میدان میں منعقد اس ریلی میں اپوزیشن اتحاد نے اپنے کارکنوں کو بڑے پیمانے پر جمع کیا۔ وہاں کانگریس، اس کی طلبہ تنظیم ’نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا‘ (این ایس یو آئی)، سماجوادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور بائیں بازو کی جماعتوں، مثلاً کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی)، سی پی آئی (مارکسسٹ) اور سی پی آئی (مارکسسٹ-لیننسٹ) لبریشن کے جھنڈوں کی بڑی تعداد کا مشاہدہ کیا گیا۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد اپوزیشن بی جے پی کے رہنماؤں، نریندر مودی اور امت شاہ کا سامنا کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس تحریک کی وجہ سے ان تینوں رہنماؤں کی نیند اڑی ہوئی ہے۔ راہل نے کہا کہ ملک کو پھر سےصحیح راستے پر لانے کی سمت چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانا پہلا قدم ہوگا۔
اپوزیشن کے کئی بڑے رہنما، جن میں کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے، سونیا گاندھی، اکھلیش یادو، ممتا بنرجی، تیجسوی یادو، دیپانکر بھٹاچاریہ، ایم اے بے بی، فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی شامل تھے، اسٹیج پر موجود تھے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے لیے ہندوستان کے عوام کی آواز کسی بھی مذہب سے زیادہ بڑی ہے اور وہ اس آواز پر کسی بھی طرح کا حملہ برداشت نہیں کریں گے۔
بی جے پی کے مشہور نعرے ’مودی کہیں نہیں جائے گا‘ کا مذاق اڑاتے ہوئے، جس کو کھڑگے کے تبصرے کے جواب میں تشکیل دیا گیا تھا، راہل نے کہا کہ وزیر اعظم کو کہیں جانے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا،’آپ بھاگ نہیں سکتے… آپ کو یہیں رہنا ہوگا اور کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔‘
نعرے بازی کر رہی بھیڑ کا جوش بڑھاتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان کی پیش گوئیاں ہمیشہ سچ ثابت ہوتی ہیں اور اب وہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار جیل جائیں گے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ’ووٹ چوری‘ کوئی چھوٹی چوری نہیں ہے، بلکہ یہ ’نایاب معاملوں میں سے ایک‘ ہے اور اسے ’غداری‘ کے زمرے میں رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا،’گیانیش کے بغیر مودی وزیر اعظم نہیں بن پاتے اور شاہ وزیر داخلہ نہیں بن پاتے۔‘
انہوں نے مزید کہا،’ملک کو انصاف ملے گا۔ ملک ’ووٹ چوری‘ کے معاملے میں انصاف کا مطالبہ کرے گا۔ اڈانی کے معاملے میں… یہ مت سوچیے کہ آپ بچ جائیں گے۔ آپ نہیں بچ سکتے… آپ، امت شاہ اور گیانیندر کمار- سبھی کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
راہل گاندھی نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر عدلیہ اور نوکرشاہی سمیت ملک کے تمام اداروں پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ امبانی اور اڈانی جیسے دو تین لوگوں نے ملک کی تمام دولت اپنے قبضے میں کر لی ہے۔
گاندھی نے کہا،’کسانوں کو ان کے حقوق نہیں مل رہے ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا ہے۔ مزدوروں کو ان کے حقوق نہیں مل رہے ہیں اور ساری دولت دو تین لوگوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔ ہمیں ایسا ہندوستان نہیں چاہیے اور ہم ایسے ہندوستان کو قبول نہیں کریں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی نے ملک میں نفرت پھیلائی ہے، جبکہ اپوزیشن ’محبت کی دکان‘ اور عدم تشدد کی ثقافت کو از سر نو قائم کرنا چاہتا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا، ’… ہندوستان کے ہر شہری کی آواز میرے لیے زیادہ اہم ہے…‘
مودی ووٹروں کا انتخاب کر رہے ہیں: کھڑگے
ریلی میں شامل مقررین نے بنیادی طور پر ’ووٹ چوری‘ کے مسئلے پر بات کی اور ایس آئی آر کے دوران تقریباً 14 کروڑ ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹائے جانے کے الزامات کو دہرایا۔ راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر، وزیر اعظم اور امت شاہ پر ’ووٹ چوری‘ کے ذریعے عوام کی آواز دبانے کا الزام لگایا۔
ممتا بنرجی اور اکھلیش یادو نے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کو ملا عوامی مینڈیٹ ’چوری‘ کیا گیا تھا۔ وہیں راہل گاندھی نے مہاراشٹر، ہریانہ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات غیر قانونی تھے۔ ان کا استدلال تھا کہ این ڈی اے اور اپوزیشن کے درمیان ووٹوں کا فرق محض تین فیصد تھا، جبکہ ایس آئی آر کے تحت 2024 میں ووٹ ڈالنے والے 15 فیصد ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں۔
کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا، ’مودی ووٹروں کا انتخاب کر رہے ہیں۔‘
کھڑگے کی قیادت میں ’انڈیا‘ اتحاد کے بیشتر رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوریت کو بچانے کے لیے بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانا ضروری ہے۔ انہوں نے مجمع سے ’بی جے پی ہٹاؤ، دیش بچاؤ‘ کے نعرے بھی لگوائے۔
کچھ رہنماؤں نے لوگوں کو یاد دلایا کہ رام لیلا میدان ماضی میں بھی تاریخی واقعات اور تبدیلیوں کا گواہ رہا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اس تاریخی میدان کو ’جمہوریت کا ہلدی گھاٹی‘ قرار دیا۔ ان کا اشارہ راجستھان کے اس میدان جنگ کی طرف تھا، جہاں 1576 میں مہارانا پرتاپ نے مغلوں کا مقابلہ کیا تھا۔ ہلدی گھاٹی کی جنگ کو ایک طاقتور سلطنت کے سامنے جھکنے سے انکار اور مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
اتر پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اسٹیج پر خاص جگہ حاصل کرنے والے اکھلیش یادو نے وزیر اعظم مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا،’جو اتر پردیش سے آئے تھے، وہ اتر پردیش سے ہی جائیں گے۔‘
انہوں نے کہا،’اتر پردیش کے انتخابی نتائج لکھنؤ اور دہلی، دونوں جگہوں سے بی جے پی کو اقتدار سے باہر کر دیں گے۔‘
یادو نے کہا،’یوپی کے لوگ استقبال کرنا بھی جانتے ہیں اور رخصت کرنا بھی، اور وہ رخصت کرنا تو اور بھی بہتر جانتے ہیں۔ 2027 میں ایسی رخصتی کی جائے گی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادی دوبارہ کبھی واپس نہیں آ پائیں گے۔‘
اپنی تقریر میں اکھلیش نے ایودھیا میں ’چندہ چوری‘ کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بی جے پی مسلسل انتخابات چرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے 2022 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی کی شکست کے لیے بھی ووٹر لسٹ میں ہیر پھیر کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
ایس پی صدر نے کہا کہ اتر پردیش بی جے پی نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں ہندوؤں کے 1.27 کروڑ ووٹ کاٹ دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیان ایسا لگتا ہے گویا بی جے پی اپنی آئندہ شکست کا ٹھیکرا کسی دوسرے کے سر پھوڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اکھلیش کا یہ تبصرہ بی جے پی کے اندر طویل عرصے سے موضوع بحث ’دہلی بنام لکھنؤ‘ کی کشمکش کے اختلافات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔
نیشنل کانفرنس (این سی) کے رہنما فاروق عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس مسلمانوں کو پاکستانی کہتے ہیں، جبکہ مسلمانوں نے ملک کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر کو تباہ کر دیا ہے، لیکن اسے پورے ملک کو برباد کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
کیرالہ کے سابق وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے ’انڈیا‘ اتحاد کی رام لیلا میدان میں منعقد احتجاجی ریلی کو جمہوریت اور ووٹ دینے کے حق کی لڑائی قرار دیا۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ، ایس آئی آر کے تحت مبینہ طور پر ہٹائے گئے ووٹروں کے نام ہٹانے کے عمل کو روکنے، شفاف انتخابات کرانے اور دوبارہ بیلٹ پیپر کے استعمال کا مطالبہ کیا۔
اس سے پہلے سنیچر کو ’انڈیا‘ اتحاد نے کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ کے لان میں ایس آئی آر کے خلاف علامتی طور پر ’عوامی مواخذے کی کارروائی‘ منعقد کی تھی۔ اس دوران گیانیش کمار پر ’ہندوستان کے آئین سے غداری‘ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
اتوار کو آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے کہا کہ رام لیلا میدان روایتی طور پر ’رامائن کے اسٹیج ڈرامے‘ کے لیے جانا جاتا ہے، لیکن آج ہم نے ان لوگوں کے لیے مہابھارت کا انعقاد کیا ہے، جو ووٹ چراتے ہیں۔
انہوں نے کہا،’آپ سب جانتے ہیں کہ مہابھارت میں شکونی نے کیا چال چلی تھی۔ آپ اپنی تاریخ جانتے ہیں: مہابھارت کسی میدان جنگ میں نہیں، بلکہ پاسوں کے کھیل سے شروع ہوئی تھی۔ اور اب جب شکونی اپنا کھیل کھیل رہا ہے تو ہمیں بھی یہ لڑائی لڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔‘
بے بی اور بھٹاچاریہ سمیت بائیں بازو کے رہنماؤں نے بھی تقریریں کیں۔ بے بی نے ’جمہوریت کو بچانے اور ووٹ کی چوری ختم کرنے‘ کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی، جبکہ بھٹاچاریہ نے کہا کہ بہار کے بعد سے یہ صاف ہو گیا ہے کہ ایس آئی آر جمہوریت کے خلاف ایک ’سرجیکل اسٹرائیک‘ ہے۔
عام آدمی پارٹی اور دراوڑ منیترا کژگم (ڈی ایم کے)، جو- اب ’انڈیا‘ اتحاد کا حصہ نہیں ہیں- اس ریلی سے دور رہیں، حالاں کہ دونوں جماعتوں نے الگ الگ ایس آئی آر کی مذمت کی ہے۔

