ٹکر کارلسن کا دعویٰ: نیتن یاہو کے دباؤ پر ٹرمپ ایران پر جوہری حملے کے قریب ہو سکتے ہیں

IMG 20261102 WA2296


واشنگٹن: امریکی سیاسی مبصر اور صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دباؤ میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ چند دنوں میں ایران پر جوہری حملے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ تاہم یہ دعویٰ ابھی تک آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے اور نہ امریکہ نہ اسرائیل نے اس کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل پیغام میں کارلسن نے کہا کہ ممکنہ ہدف وسطی ایران میں نطنز کے قریب واقع “پک ایکس ماؤنٹین” ہے، جہاں اسرائیلی انٹیلی جنس کے مطابق ایران نے یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مقام کی زیرِ زمین سرنگیں تقریباً 300 فٹ مضبوط گرینائٹ کے نیچے ہیں، اس لیے امریکی روایتی ہتھیار انہیں تباہ نہیں کر سکتے اور “واحد فوجی آپشن جوہری حملہ” ہے۔
کارلسن نے ایک گمنام ذرائع کے حوالے سے الزام لگایا کہ نیتن یاہو روزانہ ٹرمپ سے رابطہ کر رہے ہیں اور انہیں اس کارروائی کے لیے دباتے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ 7 نومبر تک اس معاملے پر فیصلہ کر سکتے ہیں، البتہ نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف مذاکرات کو ترجیح دے رہے ہیں۔
یہ دعوے اس وقت سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ نے فلوریڈا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ایک یا دو جوہری تنصیبات اب بھی ممکنہ اہداف ہیں اور امریکہ ان پر “دس منٹ کے اندر” حملہ کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی منظوری دینے کا اشارہ نہیں دیا۔
کارلسن کے الزامات کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جبکہ امریکی اور اسرائیلی حکام نے بھی جوہری حملے کے امکان کی تصدیق نہیں کی

متعلقہ پوسٹ