واشنگٹن: امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے چند گھنٹے قبل وائٹ ہاؤس نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے پورے کیے گئے ۱۲۷ وعدوں کی فہرست جاری کی ہے، جس میں مئی ۲۰۲۵ء کے ہند-پاک تنازع کی جنگ بندی اور ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدے کو بھی ان کی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔ تاہم نئی دہلی نے امریکی ثالثی کے دعوے کو مسترد کیا ہے، جبکہ ہند-امریکی تجارتی معاہدہ تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔
وائٹ ہاؤس کی فہرست
وائٹ ہاؤس نے ”صدر ٹرمپ کی دوسری مدت: کئے گئے وعدے، نبھائے گئے وعدے، دیے گئے نتائج“ کے عنوان سے دستاویز جاری کی، جو انتخابی مہم کے آخری دن شائع ہوئی۔ اس میں تجارت، خارجہ پالیسی، امیگریشن، معیشت، توانائی اور قومی سلامتی سمیت متعدد شعبوں میں انتظامیہ کی کامیابیوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔
فہرست کے مطابق ٹرمپ نے ٹیرف کے استعمال کے ذریعے برطانیہ، یورپی یونین، جاپان، چین، ہندوستان، جنوبی کوریا، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ویت نام، فلپائن اور کمبوڈیا سمیت بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ”نئے اور بہتر تجارتی معاہدے“ حاصل کیے ہیں، جن میں شامل ممالک عالمی جی ڈی پی کے نصف سے زیادہ حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ہند-پاک جنگ بندی کا دعویٰ
وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے ہند-پاک تنازع سمیت دنیا بھر میں آٹھ بین الاقوامی تنازعات کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان تنازعات میں اسرائیل و ایران، جمہوریہ کانگو و روانڈا، کمبوڈیا و تھائی لینڈ، کوسووو و سربیا، مصر و ایتھوپیا، آرمینیا و آذربائیجان اور اسرائیل و حماس شامل ہیں۔
تاہم ہندوستان نے امریکی ثالثی کے دعوے کو بارہا مسترد کیا ہے۔ نئی دہلی کا مؤقف ہے کہ ”آپریشن سندور“ کے بعد فوجی کارروائیوں کا تعطل اس وقت ہوا جب پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے اپنے بھارتی ہم منصب سے براہِ راست رابطہ کیا اور اس عمل میں کوئی تیسرا فریق شامل نہیں تھا۔
ہند-امریکی تجارتی معاہدہ
وائٹ ہاؤس نے ہندوستان کو ان ممالک میں شامل کیا جن کے ساتھ ٹرمپ نے بہتر تجارتی معاہدے حاصل کیے، مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک نے فروری میں صرف ایک عبوری معاہدے کے فریم ورک کا اعلان کیا تھا۔ مشترکہ بیان کے مطابق دونوں اطراف عبوری معاہدے کو حتمی شکل دینے اور وسیع تر دوطرفہ تجارتی معاہدے کی طرف بڑھنے پر کام کریں گے۔
اس فریم ورک کے تحت ہندوستان سے امریکی صنعتی سامان اور کچھ زرعی مصنوعات پر ٹیرف میں کمی یا خاتمے کی توقع تھی، جبکہ امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر ۱۸ فیصد باہمی ٹیرف تجویز کیا تھا۔ بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے اکتوبر میں کہا تھا کہ معاہدے کا پہلا مرحلہ مذاکراتی سطح پر حتمی ہو چکا ہے اور قانونی مسودہ تیاری کے مرحلے میں ہے، تاہم باضابطہ دستخط کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔
امیگریشن اور معیشت
امیگریشن کے محاذ پر وائٹ ہاؤس نے امریکہ-میکسیکو سرحد پر فوجی تعیناتی، سرحدی دیوار کی تعمیر کے دوبارہ آغاز اور ”ریمین ان میکسیکو“ پالیسی کی واپسی کو ٹرمپ کی کامیابی قرار دیا۔ دستاویز کے مطابق ۲۰۲۶ء کے مالی سال میں جنوب مغربی سرحد پر گرفتاریوں کی تعداد ۹۸,۷۰۸ رہی، جو بائیڈن دور میں سالانہ ۱۸ لاکھ سے زائد گرفتاریوں کے مقابلے ۹۵ فیصد کمی ہے۔
معیشت کے حوالے سے فہرست میں ورکنگ فیملیز ٹیکس کٹس، تیل اور گیس کی ملکی پیداوار میں اضافہ، تجارتی پالیسیوں سے وابستہ سرمایہ کاری، آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایکشن پلان، اسٹیبل کوائنز سے متعلق جینیئس ایکٹ اور ناسا کے آرٹیمس II مشن کا ذکر کیا گیا ہے۔

