قومی سلامتی کو خطرہ پہنچانے والوں کو سخت جواب دیا جائے گا، سعودی کابینہ

saudi cabinet meeting1773188468 0


سعودی کابینہ نے واضح کیا ہے کہ مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے یا شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کے تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

سعودی عرب نے قومی سلامتی اور عوامی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے باوجود مملکت اپنی سلامتی کے دفاع اور علاقائی استحکام کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

یہ اعلان ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ریاض میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں مشرق وسطیٰ سمیت عالمی سطح پر ہونے والی تازہ پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سعودی عرب دوست ممالک کے ساتھ قریبی رابطوں اور سفارتی تعاون کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے، ترقیاتی عمل آگے بڑھانے اور عوام کے لیے خوشحالی و پائیدار امن کے قیام کی کوششیں جاری رکھے گا۔

اجلاس کے آغاز میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور اپنے نام ملائیشیا کے بادشاہ سلطان ابراہیم اسکندر کی جانب سے موصول ہونے والے دو پیغامات سے کابینہ کو آگاہ کیا۔

انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کو بھیجے گئے اپنے پیغام کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جبکہ جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ، رومانیہ کے صدر نیکوسور دان اور اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز سے ٹیلی فونک رابطوں کے بارے میں بھی بتایا۔ کابینہ کو اردن کے ولی عہد شہزادہ الحسین بن عبداللہ سے ملاقات کے نتائج سے بھی آگاہ کیا گیا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے اجلاس کے بعد بتایا کہ کابینہ نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) اور گروپ 20 (جی 20) کے تحت ہونے والے اجلاسوں میں سعودی عرب کی شرکت کے نتائج کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط بنانے اور عالمی چیلنجز کے پائیدار حل تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

کابینہ نے سمندری راستوں میں جہاز رانی کی سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی کو خطرے میں ڈالنے والی تمام خلاف ورزیوں کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سمندری تحفظ یقینی بنانے، بین الاقوامی تجارت کی بلا تعطل ترسیل برقرار رکھنے اور متعلقہ عالمی قوانین پر عمل درآمد کے لیے فوری اقدامات کرے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ خطے میں مختلف چیلنجز کے باوجود سعودی عرب عالمی منڈیوں کو قابل اعتماد انداز میں توانائی فراہم کر رہا ہے۔

 





Source link

متعلقہ پوسٹ