اروناچل کے وزیر داخلہ کے سی جے پی کو ’غیر ملکی سازش‘ بتانے پر طلبہ  نے کی ہُوٹنگ

CJP 1024x600 1


اروناچل پردیش کے وزیر داخلہ ماما ناتونگ، راجیو گاندھی یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے۔ (تصویریں : یوٹیوب پر موجود ویڈیو کے اسکرین شاٹ)

اروناچل پردیش کی راجیو گاندھی یونیورسٹی میں ریاست کے وزیر داخلہ ماما ناتونگ نے دعویٰ کیا تھا کہ نوجوانوں کی قیادت والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ باہری لوگوں کی مدد سے نوجوانوں کو گمراہ کر رہی ہے۔ ان کے اس بیان پر وہاں موجود طلبہ نے شدید احتجاج کیا اور شور مچانا شروع کر دیا۔

نئی دہلی: اروناچل پردیش کی راجیو گاندھی یونیورسٹی میں طلبہ نے ریاست کے وزیر داخلہ ماما ناتونگ کی ہُوٹنگ کی۔ دراصل، ایک تقریر کے دوران انہوں نے ہندوستان میں غیر ملکی مداخلت کے حوالے سے سازش کی تھیوری پیش کی تھی۔

سنیچر (31 اکتوبر) کو طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ناتونگ نے الزام لگایا کہ نوجوانوں کی قیادت والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) باہری لوگوں کی مدد سے نوجوان نسل کو گمراہ کر رہی ہے۔ ان کے اس تبصرے پر طلبہ نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔

یہ واقعہ یونیورسٹی کے دوئی مکھ کیمپس میں واقع ایمفی تھیٹر میں تیراپ، چانگلانگ، لونگڈنگ اور نامسائی اسٹوڈنٹس یونین (ٹی سی ایل این ایس یو) کی سلور جوبلی تقریب کے دوران پیش آیا۔ اس پروگرام میں وزیر داخلہ ماما ناتونگ طلبہ سے خطاب کر رہے تھے۔ واقعہ کا ایک ویڈیو کچھ ہی دیر بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا۔

اپنی تقریر میں ناتونگ نے کہا،’…سی جے پی پارٹی باہری لوگوں کے ساتھ مل کر ہماری نوجوان نسل کو گمراہ کر رہی ہے اور ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے‘…

ان کے اس تبصرے پر طلبہ نے زوردار احتجاج کیا اور شور مچانا شروع کر دیا۔ شروعات میں ناتونگ نے طلبہ کو خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا، ’یہ کیا ہو رہا ہے؟‘

اس کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما نے طلبہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ وہاں ان کے رہنما کی حیثیت سے یہ بتانے آئے ہیں کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ ان کا اشارہ سی جے پی کے احتجاجی مظاہروں اور مبینہ غیر ملکی مداخلت کی طرف تھا۔

اس کے بعد انہوں نے ہندوستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا،’ہندوستان اتنی مضبوط طاقت ہے کہ… ‘

تاہم، جب بھی وہ ہندوستان کے خلاف بین الاقوامی سازشوں کی بات کرتے، طلبہ مسلسل شور مچاتے اور ہُوٹنگ کرتے رہے۔ اس سے وزیر حیران ہوکر اسٹیج پر بیٹھے دیگر لوگوں کی طرف دیکھنے لگے۔

انہوں نے دوبارہ تقریر شروع کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا، ’بھائیو، پھر سے سنیے، ملک پر حکومت کرنے کے لیے ایک سازش رچی جا رہی ہے‘…

اس پر طلبہ نے ایک بار پھر انہیں درمیان میں ہی روک دیا اور پہلے سے بھی زیادہ زور سے نعرے بازی شروع کر دی۔ کچھ سیکنڈ بعد ناتونگ نے دوبارہ بولنا شروع کیا اور اپنی بات دہراتے ہوئے کہا،’ایک سازش رچی جا رہی ہے… یہ پاکستان کی سازش ہے… یہ امریکہ کی سازش ہے… یہ بنگلہ دیش کی سازش ہے۔‘

کچھ دیر بعد انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ہندوستان کو ایک عظیم مقام تک لے جا رہے ہیں۔ ان کے اس تبصرے پر بھی طلبہ نے ہُوٹنگ شروع کر دی۔

انہوں نے کہا،’اگر ملک رہے گا تو سماج رہے گا۔ اگر ملک اچھا ہوگا تو سماج بھی اچھا ہوگا۔ اسی لیے ہندوستان کو کمزور کرنے کے لیے یہ (سی جے پی کا احتجاجی مظاہرہ) ایک غیر ملکی سازش ہے۔‘

سی جے پی کے پیچھے سازش ہونے کی بات دہرانے پر طلبہ نے ایک بار پھر زوردار احتجاج کیا۔ اس کے بعد ناتونگ نے کہا کہ ایک بڑے بھائی کی حیثیت سے نوجوانوں کو اس سازش سے آگاہ کرنا ان کا فرض ہے۔

اس دوران نوجوانوں نے ’سی جے پی! سی جے پی!‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ اسی مقام پر پروگرام کا ویڈیو ختم ہو جاتیا ہے۔ سی جے پی نے سوموار (2 نومبر) کو اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔

اس واقعہ پر کاکروچ جنتا پارٹی نے کہا کہ ہر پرامن تحریک کو ’غیرملکی فنڈنگ‘ قرار دے کر بدنام کرنا حکومت کا پرانا حربہ ہے۔ سوال پوچھو تو ملک دشمنی، احتجاج کرو تو سازش۔

پارٹی نے مزید کہا کہ اروناچل پردیش کے طلبہ کا یہ احتجاج صرف ایک ریاست کا معاملہ نہیں، بلکہ پورے جھنڈکی آواز ہے۔ نوجوانوں کو فنڈنگ میں شفافیت، ای وی ایم کے آڈٹ اور جوابدہی کی ضرورت ہے، اور وہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ان مطالبات کو اٹھا رہے ہیں۔ جھوٹے الزامات لگانے سے تحریک دبنے والی نہیں ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ