تصویر: پی ٹی آئی
گیانیش کمار حکومت کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سبب بن گئے ہیں۔ تاہم، انہیں عہدے سے ہٹائے جانے کی صورت میں ان کی نگرانی میں ہوئے انتخابات کے حوالے سےبھی کئی ایسے سوال اٹھ سکتے ہیں، جن کا سامنا کرنا حکومت کے لیے سہل نہیں ہوگا۔
’انڈیا‘ اتحاد کے رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف پہلی بارعوامی سطح پر ’مواخذے‘ کی کارروائی شروع کی گئی۔ اس کے بعد1 نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ ہوا – جسے بعض لوگ 1974 کے بعد کا سب سے بڑا مظاہرہ بتا رہے ہیں۔ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ متنازعہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اورایس آئی آر کے خلاف عوامی دباؤ کسی طور پرکم نہیں ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی ایک سمجھ دار سیاستداں ہیں، جو اپنے آس پاس کے اشاروں کو بخوبی سمجھ لیتے ہیں۔ وہ پبلک پرسیپشن کی اہمیت کو جانتے ہیں اور یہی ایک وجہ ہے کہ وہ طویل عرصے تک ٹکے رہے ہیں اور لگاتار کامیاب ہوتے ر ہے ہیں۔
انہیں یہ اچھی طرح پتہ ہوگا کہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار ان کی حکومت کے لیے، اور خود ان کے لیے بھی ،ایک بوجھ بن گئے ہیں۔ کمار پر لوگوں کا بھروسہ اتنا کم ہو گیا ہے کہ مودی کے کٹر حامی بھی ان کے دفاع کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ثبوت کے طور پر،بس اپنے خاندان اور دوستوں کے وہاٹس ایپ گروپس کو ہی دیکھ لیجیے۔
اور جب کسی رہنما کے قریبی حلقے میں موجود کوئی شخص اس کے لیے ایک بڑی مصیبت بن جائے تو ایک سمجھ دار رہنما کیا کرتا ہے؟ وہ فوراً اس شخص سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے تاکہ اپنا نقصان کم سے کم کر سکے۔ اگر مودی اپنی تیسری مدت کار کے آخری برسوں میں کچھ سکون اور اطمینان چاہتے ہیں تو یقیناً وہ بھی اب تک کے سب سے زیادہ متنازعہ چیف الیکشن کمشنر سے چھٹکارا حاصل کرنے کا کوئی نہ کوئی محتاط راستہ تلاش کر رہے ہوں گے۔
انڈین ایکسپریس اخبار کے انکشافات اور مودی حکومت کے منتخب کردہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جاری ’ووٹ چوری‘ مخالف مظاہروں کو دیکھتے ہوئے، جو پولیس کی دھمکیوں اور سخت کارروائیوں کے باوجود زور پکڑ رہے ہیں، عام رائے یہی ہے کہ کمار کا اپنے عہدے پر بنے رہنا حکومت کے لیے اور مشکلیں پیدا کرے گا۔ ایسی مشکلیں جن کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں مودی حکومت نہیں ہے،اور جس کی سیاسی طاقت پہلے ہی کمزور پڑ چکی ہے۔ اب اس کا حفاظتی حصار بھی کمزور ہو گیا ہے اور مودی شاید ایسے شخص کو بچانے کے لیے اپنی سیاسی پونجی خرچ نہیں کرنا چاہیں گے، جس کی وجہ سے انہیں ہر دن عوامی حمایت سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔
چونکہ سیاست میں عوامی تاثر سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، اس لیے حکومت کی توجہ اس حقیقت کی جانب ضرور گئی ہوگی کہ عام لوگ، جن میں سیاست سے کوئی خاص دلچسپی نہ رکھنے والے لوگ بھی شامل ہیں، پہلے ہی اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ کمار، خواہ اس کی کوئی بھی وجہ ہو، حکمراں جماعت کے اشارے پر کام کر رہے ہیں اور حکومت کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔
حکومت یا الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی کوئی بھی وضاحت، کوئی نیا بیانیہ یا باتوں کو گھما پھرا کر پیش کرنے کی کوششیں ان کے کسی کام نہیں آ رہی ہیں۔ جب نام نہاد ’گودی میڈیا‘ کے اینکر بھی چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) سے سوال پوچھنے لگیں اور دہلی پولیس – جو صاف طور پر اپنے سیاسی آقاؤں کے اشارے پر کام کر رہی ہے- پرامن احتجاج کرنے والے ’جین زی‘ کے نوجوانوں کے خلاف سختی برتنے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ حالات واقعی بہت خراب ہیں۔
گیانیش کمار کا وقت پورا ہو چکا ہے اور انہیں جانا ہی ہوگا۔
لیکن کیا وہ جائیں گے؟
یہی سب سے بڑا سوال ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانا، خواہ وہ گیانیش کمار کی طرح متنازعہ اور کھلے طور پر جانبدار ہی کیوں نہ ہوں، اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) اور کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن کے احتجاج کے دباؤ میں کسی مرکزی وزیر، مثلاً دھرمیندر پردھان، سے استعفیٰ دلوا دینا۔
موجودہ نظام میں کسی بھی وزیر کو بہ آسانی عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے؛ یہاں تک کہ بیشتر ہندوستانیوں کو تو حکومت کے پانچ کابینہ وزیروں کے نام اور ان کے محکموں (پورٹ فولیو) تک پتہ نہیں ہوں گے۔
لیکن چیف الیکشن کمشنر، خواہ لوگ ان کا نام جانتے ہوں یا نہیں، ایک ایسے ادارے کے سربراہ ہوتے ہیں جسے خودمختار اور آزاد تصور کیا جاتا ہے۔ دباؤ میں ان کا اچانک استعفیٰ ان کی نگرانی میں ہوئے انتخابات پر کئی بڑے سوال کھڑے کر دے گا۔
اور حکومت ہرگز ایسا نہیں چاہے گی۔ اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت جانتی ہے کہ مظاہرین صرف چیف الیکشن کمشنر تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ ان کا اگلا نشانہ یقیناً اس سے کہیں زیادہ بڑا اور طاقتور ہوگا۔
کیا حکومت ایسا خطرہ مول لے سکتی ہے؟
عام طور پر یہ سمجھا جا تا ہے کہ حکومت کو کمار سے چھٹکارا حاصل کر لینا چاہیے تاکہ وہ آگے کی لڑائی کے لیے خود کو محفوظ رکھ سکے، لیکن مودی حکومت کوئی ’عام‘ یا روایتی حکومت نہیں ہے۔
وزیر اعظم کو مشورہ دینے والوں کے ذہن میں یقیناً یہ بات ہوگی کہ ایسا قدم اٹھانے سے دیگر نوکرشاہوں اور پولیس افسران کو کیا پیغام جائے گا؟ یہ وہ افسران ہیں جو اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے تمام مروجہ ضابطوں اور اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔
حکومت ایک مشکل صورتحال میں پھنس چکی ہے۔ اور یہی وہ موقع ہے جہاں مودی کی سیاسی بصیرت کام آئے گی۔
(منیش چھبر سینئر صحافی ہیں۔)

