کیا تاریخ خود کو دہرائے گی؟

WhatsApp Image 2026 11 03 at 3.02.39 PM 1


فوٹو بہ شکریہ: ترکش کمیونی کیشن ڈائریکٹوریٹ

سوال یہ ہے کہ کیا اکیسویں صدی میں ترک گیس اور وسطی ایشیا کی تجارتی شاہراہیں ایسی ہی تبدیلی پیدا کریں گی، جو عرب تیل پیدا نہیں کرسکا؟ اگر ایسا ہوا بھی، تو کیا اس تبدیلی کے حقیقی ثمرات ترک دنیا کے عام شہریوں تک پہنچیں گے، یا دولت اور طاقت ایک مرتبہ پھر چند دارالحکومتوں اور حکمران اشرافیہ تک محدود رہیں گی؟

بیسویں صدی کی معاشی تاریخ اگرعرب تیل کے غلبے کی علامت تھی، تو اکیسویں صدی  تُرک گیس اور وسطی ایشیائی راہداریوں کی صدی ثابت ہو سکتی ہے۔ گزشتہ ہفتے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقد ہونے والے آرگنائزیشن آف تُرکک اسٹیٹس (او ٹی ایس) کے  سربراہی اجلاس کے تناظر میں اس کا انکار کرنا کسی طور ممکن نہیں رہا۔

اس کانفرنس میں بحیرہ روم کے نیلگوں ساحلوں سے لے کر چینی سرحد کی فصیلوں تک پھیلی وسیع و عریض خطہ ارض کو عالمی معیشت اور سیاست کے ایک نئے محور میں تبدیل کرنے کے خاکے پر تفصیلی بحث کی گئی۔

تاہم، تاریخ کی اس متوازی لکیر کو کھینچتے ہی کئی تلخ سوال سر اٹھانے لگتے ہیں۔ عرب دنیا نے پٹرولیم کی بے پناہ دولت سے دنیا کی بیش قیمت اور چمکتی دمکتی جدید بستیاں اور فلک بوس عمارتیں تو کھڑی کیں اور تیل کی بین الاقوامی منڈیوں میں فیصلہ کن اثر و رسوخ بھی پایا، لیکن صنعتی خود کفالت، جدید ٹکنالوجی، مقامی سائنسی مہارت اور سکیورٹی کی بنیادی ضروریات کے لیے ہمیشہ غیر ملکی سہارے اور مغربی دفاعی چھتری کا محتاج رہا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا قدرتی گیس، خام تیل، یورینیم اور نایاب معدنیات کے لامتناہی خزانوں پر براجمان تُرک ریاستیں اپنے ان قدرتی وسائل کو ایک دیرپا صنعتی و سائنسی طاقت میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گی، یا وہ بھی محض خام مال بیچنے اور خارجی طاقتوں کی دست نگری کے اسی آزمودہ اور خطرناک راستے پر چل پڑیں گی؟

انقرہ کے صدارتی کمپلیکس میں منعقدہ اجلاس کی کارروائیوں پر یہی بنیادی سوال سایہ فگن رہا۔سربراہی اجلاس نے 163 نکات پر مشتمل ایک وسیع انقرہ اعلامیہ جاری کیا۔ اس میں نقل و حمل کی نئی راہداریوں، توانائی کے اشتراک، دفاعی صنعت، مصنوعی ذہانت، تعلیم، سائبر سلامتی اور ایک مشترکہ ترک حروفِ تہجی تک کے منصوبے شامل ہیں۔

WhatsApp Image 2026 11 03 at 3.02.39 PM
فوٹو بہ شکریہ: ترکش کمیونی کیشن ڈائریکٹوریٹ

اس اعلامیے کا بنیادی مقصد ترک دنیا کو جغرافیائی قربت اور مشترکہ تہذیبی ورثے کی بنیاد پر قائم ریاستوں کے مجموعے سے نکال کر ایک ایسے معاشی خطے میں تبدیل کرنا ہے، جو چین، وسطی ایشیا، قفقاز اور یورپ کو باہم مربوط کرسکے۔ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے بحیرہ کیسپین سے گزرنے والی مشرقی مغربی تجارتی راہداری، جسے مڈل کوریڈور کہا جاتا ہے، کو مستقبل کی عالمی تجارت کی سمت متعین کرنے والی تزویراتی شاہراہ قرار دیا۔ان کے نزدیک یہ صرف ریلوے لائنوں، بندرگاہوں اور شاہراہوں کا منصوبہ نہیں، بلکہ ایک ایسے خطے کی معاشی تشکیلِ نو ہے جسے گزشتہ دو صدیوں کی سلطنتوں، جنگوں اور سیاسی سرحدوں نے ایک دوسرے سے جدا کردیا تھا۔

ترک دنیا کو عرب لیگ کی طرز پر ایک مشترکہ سیاسی اور معاشی تنظیم میں منظم کرنے کا تصور1991 میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد سامنے آیا۔قازقستان، کرغزستان، ازبکستان، ترکمانستان اور آذربائیجان آزاد ریاستوں کے طور پر عالمی نقشے پر ابھرے۔

کئی نسلوں کے بعد ترکیہ کے لیے ان علاقوں کے ساتھ براہِ راست سیاسی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات قائم کرنے کا موقع پیدا ہوا، جن کی زبانیں اور تاریخی روایات اس کی اپنی تہذیبی شناخت سے گہرا تعلق رکھتی تھیں۔سلطنتِ عثمانیہ کے زوال اور پہلی عالمی جنگ کے بعد اس کے خاتمے نے اناطولیہ کو ان وسیع علاقوں سے الگ کردیا جو کبھی ترک سیاسی، تجارتی اور ثقافتی روابط کے بڑے سلسلے کا حصہ تھے۔

دوسری جانب وسطی ایشیا میں سوویت اقتدار کے استحکام نے ترک زبان بولنے والی اقوام کو ماسکو کے سیاسی نظام کے تابع کردیا، جبکہ مشرق میں آباد ترک النسل آبادیوں کی ایک بڑی تعداد چین کی سرحدوں کے اندر قید ہوگئی۔

انقرہ میں ترک زبان بولنے والے ممالک کا پہلا سربراہی اجلاس 1992 میں منعقد ہوا۔ سترہ برس بعد،2009 میں ترک زبان بولنے والی ریاستوں کی تعاون کونسل باقاعدہ قائم ہوئی۔2021 میں اس کا نام تبدیل کرکے تنظیمِ ترک ریاستیں، یعنی آرگنائزیشن آف ترکک اسٹیٹس (او ٹی ایس)، رکھ دیا گیا۔اس بار انقرہ میں ہونے والا تیرہواں سربراہی اجلاس اس لحاظ سے بھی علامتی اہمیت رکھتا تھا کہ اس کے ساتھ منعقد ہونے والا ترک ورلڈ ڈائیلاگ فورم بھی عین اسی تاریخ کو شروع ہوا، جس دن چونتیس برس قبل ترک ریاستوں کے سربراہ پہلی مرتبہ جمع ہوئے تھے۔

WhatsApp Image 2026 11 03 at 3.02.39 PM 2
فوٹو بہ شکریہ: ترکش کمیونی کیشن ڈائریکٹوریٹ

ترکیہ کے شعبہ اطلاعات کے سربراہ برہان الدین دوران نے اس تاریخی اتفاق کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یاد دلایا کہ1992کو اسی شہر میں ترک زبان بولنے والی ریاستوں کا پہلا سربراہی اجلاس منعقد ہوا تھا۔

ترک ریاستوں کی تنظیم اور عرب لیگ کے درمیان کئی مماثلتیں ہیں، اگرچہ دونوں کی تشکیل کے تاریخی حالات مختلف رہے ہیں۔ دونوں تنظیموں نے زبان، ثقافت اور مشترکہ تاریخی یادداشت سے جڑی ریاستوں کو ایک ادارہ جاتی ڈھانچے میں جمع کرنے کی کوشش کی۔ دونوں کے سامنے یہ مسئلہ بھی موجود رہا کہ مشترکہ تہذیبی شناخت کو قومی خودمختاری اور الگ الگ ریاستی مفادات کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ کیا جائے۔

البتہ ترک ریاستوں کو ایک ایسا معاشی موقع حاصل ہے جو ان کے تعاون کو محض ثقافتی یا جذباتی وابستگی سے آگے لے جاسکتا ہے۔قازقستان کے پاس تیل، یورینیم اور معدنیات کے وسیع ذخائر ہیں۔

ترکمانستان دنیا کے بڑے ثابت شدہ قدرتی گیس ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ آذربائیجان یورپ کے لیے توانائی کا ایک اہم فراہم کنندہ بن چکا ہے، جبکہ ازبکستان معدنی دولت کے ساتھ صنعتی ترقی کے نئے منصوبوں پر کام کررہا ہے۔

گو کہ ترکیہ توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے، لیکن اس کے پاس نسبتاً ترقی یافتہ صنعتی ڈھانچہ، دفاعی ٹکنالوجی، تجارتی ادارے، پیداواری صلاحیت اور یورپی منڈیوں تک رسائی موجود ہے۔

یوں ترک ریاستوں کی تنظیم میں ایک طرف قدرتی وسائل رکھنے والے ممالک ہیں اور دوسری جانب ان وسائل کو صنعتی پیداوار اور عالمی تجارت سے جوڑنے کی صلاحیت رکھنے والا ترکیہ بھی موجود ہے۔

تنظیم کے پانچ مکمل ارکان ترکیہ، آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان اور ازبکستان ہیں۔ ان کی مجموعی آبادی سولہ کروڑ سے زیادہ ہے۔ ترکمانستان، ہنگری، شمالی قبرص کی ترک جمہوریہ اور اقتصادی تعاون تنظیم مبصر کی حیثیت سے اس سے وابستہ ہیں۔سربراہی اجلاس کے متوازی منعقد ہونے والے ڈائیلاگ فورم میں ترکیہ کے سابق وزیراعظم اور تنظیم کی کونسل آف ایلڈرز کے سربراہ بن علی یلدرم نے کہا کہ سورج ہمیشہ مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور مغرب میں صرف غروب ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نشاۃِ ثانیہ اور صنعتی انقلاب کے بعد مغربی دنیا کو  معاشی اور تکنیکی بالادستی حاصل تو ہوگئی، مگر وہ اب پہلے کی طرح دولت پیدا نہیں کررہا ہے۔ اس لیے توانائی، نقل و حمل، صنعت اور ٹکنالوجی میں قیادت سنبھالنے کے لیے ترک اقوام کے پاس وافر مواقع موجود ہیں۔

صدیوں تک شاہراہِ ریشم نے چین کے تجارتی مراکز کو وسطی ایشیا، ایران، برصغیر اور یورپ سے جوڑے رکھا۔اس شاہراہ پر صرف ریشم، مصالحے، قیمتی دھاتیں اور تجارتی سامان ہی سفر نہیں کرتے تھے۔ اس کے ساتھ مذاہب، زبانیں، علوم، ٹیکنالوجی، فنون اور سیاسی افکار بھی ایک تہذیب سے دوسری تہذیب تک پہنچتے تھے۔

آج جس مڈل کوریڈور کی بات ہورہی ہے، وہ دراصل اسی قدیم جغرافیائی اہمیت کو جدید ریلوے لائنوں، شاہراہوں، بندرگاہوں، پائپ لائنوں اور ڈیجیٹل مواصلاتی نظام کے ذریعے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے۔اس کا باضابطہ نام ٹرانس کیسپین انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ روٹ ہے۔

یہ راستہ چین کو قازقستان سے ملاتا ہے، وہاں سے بحیرہ کیسپین عبور کرکے آذربائیجان پہنچتا ہے اور پھر جارجیا اور ترکیہ کے راستے یورپی منڈیوں تک جاتا ہے۔اس میں موجودہ ریلوے نظام، سمندری جہازرانی اور سڑکوں کے ذریعے مال برداری کو یکجا کیا گیا ہے۔

اس راہداری کی ایک بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ روس سے گزرنے والے تجارتی راستوں اور مغربی ایشیا کے غیرمستحکم سمندری راستوں کا متبادل فراہم کرتی ہے۔ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد اس منصوبے کی تزویراتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

مغربی پابندیوں اور جغرافیائی سیاسی بے یقینی نے بین الاقوامی کاروباری اداروں کو ایسے راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا جو روسی سرزمین سے نہ گزرتے ہوں۔امریکہ کی ایران پر تھوپی گئی جنگ، بحیرہ احمر میں عدم استحکام اور آبنائے ہرمز سے جہازرانی کے خطرات نے بھی اس کوریڈور کی اہمیت بڑھا دی ہے۔

وسطی ایشیا کی خشکی میں گھری ریاستوں کے لیے مڈل کوریڈور ایک ایسے مسئلے کا ممکنہ حل پیش کرتا ہے جس کا سامنا انہیں طویل عرصے سے ہے۔قازقستان، ازبکستان اور کرغزستان کو عالمی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے بڑی ہمسایہ طاقتوں، خصوصاً روس اور چین کے راستوں پر انحصار کرنا پڑتا رہا ہے۔

بحیرہ کیسپین اور ترکیہ کے ذریعے ایک مؤثر متبادل رابطہ انہیں تجارت میں زیادہ آزادی اور انتخاب کی گنجائش دے سکتا ہے۔ترکیہ کے لیے یہ منصوبہ یورپ اور ایشیا کے درمیان مرکزی تجارتی دروازہ بننے کے خواب کو تقویت دیتا ہے، جبکہ آذربائیجان کے لیے وسطی ایشیا، بحیرہ روم اور یورپی منڈیوں کو جوڑنے والے ایک بڑے نقل و حمل کے مرکز میں تبدیل ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

اس مڈل کوریڈور کی کامیابی کے لیے بندرگاہوں کی توسیع، ریلوے رابطوں کی بہتری، سامان کی ترسیل کے مراکز، سرحدی انتظامات میں ہم آہنگی اور بھاری سرمایہ کاری ضروری ہوگی۔اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ شریک ممالک نقل و حمل کو محض اپنی اپنی قومی آمدنی کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے ایک مشترکہ معاشی منصوبے کے طور پر قبول کریں۔

بن علی یلدرم نے مڈل کوریڈور کو خوشحالی، معیشت، تاریخ اور ثقافت کی راہداری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کامیابی صرف چین کے سامان کو یورپ پہنچانے سے نہیں ناپی جانی چاہیے۔ اس راستے پر مشترکہ صنعتی مراکز، پیداواری کارخانے اور سامان کی ترسیل کے بڑے مراکز قائم ہونے چاہییں، تاکہ ان ممالک کی حیثیت محض گزرگاہوں کی نہ رہے بلکہ وہ خود بھی مصنوعات تیار کرنے والے معاشروں میں تبدیل ہوں۔

یلدرم نے واضح کیا کہ مڈل کوریڈور کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ اس سے شہروں میں کتنی سرمایہ کاری آئی، کاروباری اداروں کے لیے کتنی نئی منڈیاں کھلیں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے کتنے مواقع پیدا ہوئے۔جنوبی ایشیا کے لیے مڈل کوریڈور کی بڑھتی ہوئی اہمیت ایک خاص سیاسی پس منظر رکھتی ہے۔ستمبر2023 میں نئی دہلی میں جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس کے دوران ہندوستان نے انڈیا، مڈل ایسٹ، یورپ اکنامک کوریڈور، یعنی آئی ایم ای سی، کے منصوبے کو اپنی بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا تھا۔

اس منصوبے کے تحت ہندوستانی بندرگاہوں کو جزیرہ نمائے عرب، اسرائیل اور بحیرہ? روم کے ذریعے یورپ سے جوڑنے کا تصور پیش کیا گیا۔لیکن اسرائیل کی غزہ جنگ اور اس کے بعد پورے خطے میں پھیلنے والے عدم استحکام نے اس منصوبے کو ایک مکمل فعال تجارتی راہداری میں تبدیل ہونے سے روک رکھا ہے۔

اس کے برعکس مڈل کوریڈور پہلے ہی کام کررہا ہے، اگرچہ اس کی نقل و حمل کی گنجائش اور کارکردگی ابھی محدود ہے۔

انقرہ میں زیرِ بحث آنے والے تجارتی منصوبوں میں مڈل کوریڈور سے منسلک زنگزور کا مجوزہ راستہ صدر ایردوان کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔جنوبی آرمینیا سے گزرنے والا یہ رابطہ آذربائیجان کے مرکزی علاقے کو اس کے نخچیوان نامی الگ تھلگ خطے سے ملانے اور پھر ترکیہ تک زمینی رسائی فراہم کرنے کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔

اس طرح اناطولیہ اور وسطی ایشیا کی ترک جمہوریاؤں کے درمیان ایک اضافی زمینی رابطہ قائم ہوسکتا ہے، جو جارجیا سے گزرنے والے موجودہ راستے کی تکمیل کرے گا اور مڈل کوریڈور کو مزید مضبوط بناسکتا ہے۔

انقرہ کے سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ایردوان اس منصوبے کو اپنی تاریخی میراث کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔وہ  ترکیہ کی تاریخ میں ایسے رہنما کے طور پر یاد رکھے جانا چاہتے ہیں جس نے سلطنتوں کے زوال، سوویت اقتدار اور بند سرحدوں کے باعث جغرافیائی طور پر بکھری ہوئی ترک دنیا کو دوبارہ براہِ راست زمینی روابط سے جوڑ دیا۔

اگست 2025 کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور آرمینیا کے وزیراعظم نکول پاشینیان کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کی۔اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس رابطے کو ٹرمپ روٹ فار انٹرنیشنل پیس اینڈ پراسپیرٹی، یعنی بین الاقوامی امن و خوشحالی کے لیے ٹرمپ راہداری (ٹی آر آئی پی پی)، کے نام سے آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔تاہم اس منصوبے کی عملی تکمیل آسان نہیں ہے۔

مجوزہ راستہ آرمینیا کی سرزمین سے گزرتا ہے، اس لیے اس کی خودمختاری اور قانونی اختیار کو تسلیم کرنا کسی بھی قابلِ عمل انتظام کی بنیادی شرط ہے۔ایران کو بھی خدشہ ہے کہ اس کی شمالی سرحد کے ساتھ نئے تجارتی راستے اس کی موجودہ راہداری اہمیت کم کرسکتے ہیں اور ترکیہ و آذربائیجان کے مشترکہ علاقائی اثرورسوخ میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

  حال ہی میں ترکیہ اور آذربائیجان کے تعلقات میں آئی تلخی بھی اس کو ریڈور کومکمل عملی شکل دینے کے عمل میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔ ترک دنیا کے اندر موجود اختلافات سربراہی اجلاس کے دوران بھی نمایاں ہوگئے، جب آذربائیجان کے صدر الہام علییف کی غیرحاضری سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئی۔

آذربائیجان کے پاس تنظیم کی صدارت تھی اور توقع تھی کہ علییف خود انقرہ پہنچ کر اس کی قیادت ترکیہ کے حوالے کریں گے۔لیکن انہوں نے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور اپنی جگہ وزیر خارجہ جیہون بایراموف کو بھیج دیا۔

آذربائیجانی ذرائع ابلاغ نے ان کی غیرحاضری کو مصروفیات اور پہلے سے طے شدہ پروگراموں سے منسوب کیا، مگر یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب انقرہ اور باکو کے درمیان غیرمعمولی طور پر کھلے اختلافات پیدا ہوچکے تھے۔فوری تنازع آذربائیجان کے اسکولوں میں طالبات کے سر پر اسکارف پہننے پر پابندیوں سے متعلق تھا۔

اس معاملے نے ترکیہ کے مذہبی اور قدامت پسند سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ترکیہ کی سیاست میں اس موضوع کی تاریخی حساسیت بھی ہے، کیونکہ ایردوان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے اپنی سیاسی شناخت کا ایک اہم حصہ اسلامی لباس، خصوصاً حجاب پر عائد پابندیوں کے خلاف جدوجہد سے حاصل کیا تھا۔اختلاف اس وقت سفارتی تنازع میں تبدیل ہوا جب ترکیہ کے صدارتی مشیر اوکتائے سارال نے باکو پر کھلے عام تنقید کی۔

بعد میں ایردوان نے انہیں عہدے سے برطرف کردیا۔لیکن دونوں ممالک کے درمیان اختلافات صرف مذہبی لباس تک محدود نہیں ہے۔ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف ترکیہ نے نہایت سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

ایردوان بار بار اسرائیل پر نسل کشی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں اور بین الاقوامی برادری سے زیادہ مؤثر کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔اس کے برعکس آذربائیجان نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات برقرار رکھے ہیں، جن میں توانائی کی فراہمی اور دفاعی تعاون بھی شامل ہے۔

باکو نے ہندوستان کے ساتھ بھی سفارتی بھی روابط بڑھائے ہیں اور قبرص کے معاملے میں بھی اس کے رویے نے ترکیہ کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کا حالیہ دورہ باکو اس بات کا اشارہ تھا کہ آذربائیجان انقرہ کی علاقائی ترجیحات سے الگ اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے تیار ہے۔؎

ایردوان نے شاید اسی حساسیت کو محسوس کرتے ہوئے اجلاس میں کہا کہ ترک دنیا کی خاندانی تصویر میں علیحدگی، تقسیم یا اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔آذربائیجان مڈل کوریڈور کے عین اس مقام پر واقع ہے جہاں بحیرہکیسپین کا خطہ جارجیا اور ترکیہ سے ملتا ہے۔اس کی فعال شرکت کے بغیر انقرہ میں پیش کردہ مرکزی تجارتی راہداری اپنی مطلوبہ شکل میں کام نہیں کرسکتی ہے۔

عرب دنیا اور ترک دنیا کے درمیان ایک بنیادی فرق ان کے سیاسی جغرافیے میں پوشیدہ ہے۔عرب اکثریتی ممالک کی بڑی تعداد آزاد ریاستوں پر مشتمل ہے اور صرف فلسطین ہی اسرائیلی قبضے کا سامنا کررہا ہے۔

اس کے برعکس تاریخی ترک دنیا کے بڑے حصے آج بھی روس اور چین کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر واقع ہیں۔روس کے اندر تاتارستان، باشقورتوستان، چواشیا، ساخا یا یاقوتیا، تووا، خاکاسیا اور التائی جیسے علاقے موجود ہیں، جہاں ترک زبان بولنے والی بڑی آبادیاں رہتی ہیں۔

شمالی قفقاز میں داغستان نسلی اعتبار سے کہیں زیادہ متنوع ہے، لیکن وہاں بھی قوموق اور نوغائی جیسی اہم ترک النسل قومیں آباد ہیں۔مشرق میں چین کا وسیع سنکیانگ خطہ، جسے بہت سے ترک باشندے مشرقی ترکستان کہتے ہیں، اویغور، قازق، کرغز اور دیگر ترک زبان بولنے والی آبادیوں کا وطن ہے۔

لداخ اور کشمیر کے قدیم تجارتی راستے لیہہ کو یارقند، کاشغر اور وسطی ایشیا کے دوسرے مراکز سے جوڑتے تھے۔بیسویں صدی کے وسط تک لداخ کی تجارتی زندگی میں ترک زبانوں، خصوصاً یارقندی تاجروں سے وابستہ زبانوں، کا اہم کردار تھا۔

روس نے ترک قوم پرستی کی سیاسی تحریکوں کے بارے میں اپنی روایتی بدگمانی کے باوجود ترکیہ کے ساتھ ثقافتی، تعلیمی، مذہبی اور تجارتی روابط کے معاملے میں نسبتاً لچکدار رویہ اختیار کیا ہے۔ماسکو نے روسی خودمختاری کے دائرے میں رہتے ہوئے ترکیہ کو ترک اور مسلم آبادیوں کے ساتھ خاصی سطح پر روابط برقرار رکھنے کی گنجائش دی ہے۔تاتارستان کا دارالحکومت قازان ہر سال روس، اسلامی دنیا، قازان فورم کی میزبانی کرتا ہے۔اس فورم میں مسلم ممالک، جن میں ترکیہ بھی شامل ہے، کے سرکاری نمائندے، کاروباری ادارے اور مختلف تنظیمیں شرکت کرتی ہیں۔اسی طرح ترکیہ کا مذہبی امور کا ادارہ دیانت روس کے مسلم اداروں کے ساتھ مذہبی اور تعلیمی روابط برقرار رکھتا ہے۔

ان تعلقات نے انقرہ کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ ماسکو کی علاقائی خودمختاری کو چیلنج کیے بغیر روس کے اندر ترک برادریوں سے اپنا رشتہ قائم رکھ سکے۔یہ روسی حکمتِ عملی کا ایک دلچسپ پہلو ہے۔ماسکو ایک طرف ایسی سیاسی تحریکوں سے محتاط رہتا ہے جو اس کی وفاقی ساخت یا علاقائی وحدت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں، مگر دوسری طرف ترکیہ کے ساتھ تعاون کو مکمل طور پر روکنے کے بجائے اسے اپنے ریاستی نظام کے اندر جگہ دیتا ہے۔

انقرہ اجلاس میں قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف نے روس کے ساتھ تنظیم کے تعلقات بڑھانے کی تجویز بھی پیش کی۔انہوں نے او ٹی ایس پلس کے ڈھانچے یا مبصر کی حیثیت سے روس کے ساتھ کسی ممکنہ انتظام پر غور کرنے کی بات بھی کی۔

انقرہ اجلاس کی ایک اہم پیش رفت یہ بھی تھی کہ ترک ریاستوں کی تنظیم اپنے ابتدائی ثقافتی اور معاشی ایجنڈے سے آگے بڑھ کر دفاعی ٹیکنالوجی اور سلامتی کے معاملات میں تعاون پر غور کررہی ہے۔اعلامیے میں ترکیہ کے اندر او ٹی ایس ڈیفنس انڈسٹری کالج کے قیام کے امکان پر غور کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

ڈائیلاگ فورم میں جاپانی دانشور کین موریاسو نے کہا کہ ترک دنیا کا زیادہ مضبوط ہونا ایشیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں جاپان کے دو وزرائے دفاع نے ترکیہ کا دورہ کیا، جو ترک دفاعی صلاحیتوں اور ممکنہ تکنیکی تعاون میں ٹوکیو کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اظہار ہے۔

موریاسو کے مطابق جاپان کی باریک اور انتہائی درست انجینئرنگ، الکٹرانکس اور جدید صنعتی پیداوار کی مہارت ترکیہ کی فوجی ڈرون ٹیکنالوجی اور دفاعی کارروائیوں کی صلاحیت کے ساتھ مل کر نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔

ازبکستان کے آوازبیک عبدالخایف نے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ایک ایسے کاروباری پلیٹ فارم کی تجویز پیش کی جو مختلف ممالک کی کمپنیوں کو ٹیکنالوجی کی مشترکہ پیداوار میں مدد دے سکے۔

ان کے مطابق ترک ریاستیں عالمی معیشت میں صرف خام مال فراہم کرنے والے ممالک نہیں رہنا چاہتیں، بلکہ وہ تحقیق، صنعت اور ٹیکنالوجی کی پیداوار میں بھی حصہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ڈائیلاگ فورم کی شاید سب سے دلچسپ بحث اس سوال کے گرد گھومتی رہی کہ ترک دنیا کی مشترکہ شناخت کو صدور اور وزرائے خارجہ کی ملاقاتوں سے آگے کس طرح زندہ رکھا جائے۔

بن علی یلدرم نے تجویز پیش کی کہ ترک ممالک کو اپنی طلبہ آبادی کا دس فیصد حصہ تنظیم کے دوسرے رکن ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجنا چاہیے۔

ان کا خیال تھا کہ اس تعلیمی نقل و حرکت سے ایک ایسی نئی نسل پیدا ہوگی جو ترک دنیا کی مختلف زبانوں، معاشروں، اداروں اور ثقافتی روایات سے براہِ راست واقف ہوگی۔یہ طلبہ آگے چل کر کاروباری شخصیات، محققین، انجینئرز اور منتظمین بن سکتے ہیں، جو سیاسی رہنماؤں کے تصور کردہ معاشی اور ادارہ جاتی روابط کو عملی شکل دیں گے۔

سربراہی اجلاس میں چونتیس حروف پر مشتمل ایک مجوزہ مشترکہ ترک حروفِ تہجی کی حمایت بھی کی گئی۔

ترکیہ اور آذربائیجان لاطینی بنیاد پر قائم رسم الخط استعمال کرتے ہیں، جبکہ وسطی ایشیا کی کئی زبانوں میں تاریخی طور پر روسی سیریلک حروف رائج رہے ہیں۔ سنکیانگ کے اویغوروں نے عربی و عثمانی رسم الخط کی روایت سے وابستہ اپنی تحریری صورت برقرار رکھی ہے۔

ایردوان نے اس ثقافتی منصوبے کو ترک دانشور اسماعیل گاسپرالی کے افکار سے جوڑا۔گاسپرالی کا زبان، فکر اور عمل میں اتحاد کا تصور اس سربراہی اجلاس کے مرکزی موضوع کی فکری بنیاد بھی بنا۔

انقرہ اعلامیے میں ڈیجیٹل شاہراہِ ریشم کے تصور کی بھی حمایت کی گئی۔اس کے تحت بحیر ہ کیسپین کے پار آذربائیجان اور قازقستان کے درمیان مجوزہ فائبر آپٹک رابطہ بھی شامل ہے۔

یہ منصوبے اس خواہش کا اظہار ہیں کہ ترک دنیا صرف دوسروں کے تیار کردہ ڈیجیٹل نظام اور ٹیکنالوجی کی صارف نہ رہے، بلکہ معلومات، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کی پیداوار میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔

انقرہ میں اجلاس اختتام کو پہنچا تو بلند عزائم اور عملی مشکلات کے درمیان فرق نمایاں تھا۔تنظیمِ ترک ریاستیں اب ایک وسیع ادارہ جاتی ڈھانچہ رکھتی ہے۔ اس کا معاشی ایجنڈا پھیل رہا ہے اور اس کا جغرافیائی محلِ وقوع عالمی تجارتی راستوں میں آنے والی تبدیلیوں کے باعث پہلے سے زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔

اس کے ارکان کے پاس توانائی اور معدنیات کے بڑے وسائل موجود ہیں، جبکہ ترکیہ صنعتی صلاحیت اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔لیکن قومی مفادات میں اختلاف، معاشی ترقی کی غیرمساوی سطح، مختلف سلامتی کے معاہدے اور الگ الگ ترجیحات اسکو کمزور کرسکتے ہیں۔

عرب لیگ کا تجربہ اس سلسلے میں ایک تنبیہ بھی ہے اور ایک موقع بھی ہے۔ تیل نے عرب ممالک کو غیرمعمولی دولت اور عالمی اثرورسوخ دیا، لیکن اس دولت سے خودبخود سیاسی اتحاد یا تکنیکی خودمختاری پیدا نہیں ہوئی۔

اب ترک ریاستوں کے سامنے یہ موقع ہے کہ وہ قدرتی گیس، معدنیات، صنعت اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو ایک متنوع معاشی نظام کی بنیاد بنائیں۔مڈل کوریڈور اس تصور کا پہلا بڑا عملی امتحان ہوگا۔اگر یہ ایک قابلِ اعتماد، مؤثر اور مسابقتی تجارتی راستے میں تبدیل ہوگیا، تو وسطی ایشیا کے معاشی امکانات بدل سکتے ہیں اور یوریشیا کی تجارت میں ترکیہ کا کردار مضبوط ہوسکتا ہے۔

لیکن اگر سیاسی اختلافات، ناکافی سرمایہ کاری اور انتظامی رکاوٹیں برقرار رہیں، تو یہ منصوبہ موجودہ تجارتی راستوں کا ایک پُرکشش مگر نامکمل متبادل بن کر رہ سکتا ہے۔آذربائیجان کے صدر کی غیرحاضری نے سیاسی یکجہتی کی نزاکت ضرور نمایاں کی، مگر اس سے فی الحال وہ معاشی منطق ختم نہیں ہوتی جس نے ترک ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے پر مجبور کیا ہے۔

اس سربراہی اجلاس کے دوران انقرہ کے صدارتی کمپلیکس کے قریب ترک ریاستوں کے تہذیبی پارک کا افتتاح بھی کیا گیا۔یہ پارک بیش تپہ نیشنز فاریسٹ کے تقریباً چھ لاکھ پینتالیس ہزار مربع میٹر پر پھیلے وسیع منصوبے کا حصہ ہے۔

اس میں روایتی ترک خیمے، مختلف ممالک کے قومی پویلین اور ترک تاریخ کی اہم عمارتوں اور یادگاروں کے چھوٹے نمونے قائم کیے گئے ہیں۔اس کا مقصد ترک اقوام کے مشترکہ تہذیبی ورثے کو نمایاں کرنا ہے۔

یہ پارک ایک طرح سے اس سیاسی تصور کی علامتی تصویر بھی ہے جسے انقرہ معاشی اور سفارتی حقیقت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔Turkic Civilizational Park 2

ایک ایسے خطے کی تصویر، جس کی زبانوں، تاریخوں اور ثقافتوں میں مماثلتیں تو بہت ہیں، مگر جس کے باشندے مختلف ریاستوں، سیاسی نظاموں اور قومی مفادات میں تقسیم ہیں۔پارک میں ان سب کو ایک ہی جغرافیائی احاطے میں جمع کرنا نسبتاً آسان ہے۔ اصل امتحان ان ریاستوں کو ایک مشترکہ معاشی اور سیاسی سمت میں آگے بڑھانا ہوگا۔

درحقیقت انقرہ سربراہی اجلاس کی بڑی اہمیت اسی کوشش میں پوشیدہ ہے کہ مشترکہ نسل، زبان اور تاریخ کی جذباتی گفتگو سے آگے بڑھ کر اجتماعی خوشحالی کی عملی بنیادیں تعمیر کی جائیں۔

بن علی یلدرم کا یہ کہنا کہ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے، اجلاس میں موجود اعتماد اور امید کا خوبصورت استعارہ تھا۔ لیکن عرب تیل کی معیشتوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ جغرافیائی برتری اور قدرتی دولت مستقل طاقت کی ضمانت نہیں ہے۔ دولت کو علم میں، علم کو ٹکنالوجی میں اور ٹکنالوجی کو پیداواری صلاحیت میں تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے مضبوط ادارے، تعلیمی نظام، صنعتی تحقیق، سیاسی استحکام اور ریاستوں کے درمیان قابلِ اعتماد تعاون ضروری ہے۔ سولہویں اور سترویں صدی میں یورپ کی صنعت کاری نے عالمی سیاست کی سمت بدل دی تھی۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اکیسویں صدی میں ترک گیس اور وسطی ایشیا کی تجارتی شاہراہیں ایسی ہی تبدیلی پیدا کریں گی، جو عرب تیل پیدا نہیں کرسکا؟ اگر ایسا ہوا بھی، تو کیا اس تبدیلی کے حقیقی ثمرات ترک دنیا کے عام شہریوں تک پہنچیں گے، یا دولت اور طاقت ایک مرتبہ پھر چند دارالحکومتوں اور حکمران اشرافیہ تک محدود رہیں گی؟

انقرہ نے مستقبل کا نقشہ تو پیش کردیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ترک ریاستیں اس نقشے پر محض نئی شاہراہیں کھینچتی ہیں، یا ایک نئی معاشی اور تہذیبی تاریخ بھی رقم کرتی ہیں۔



Source link

متعلقہ پوسٹ