لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) – گیانا میں پیدا ہونے والی برطانوی شاعرہ گریس نکولس نے رائل سوسائٹی آف لٹریچر (آر ایس ایل) کا 2026 کا "پایونیئر پرائز” جیت لیا ہے۔ اعزاز کے ساتھ 10 ہزار پاؤنڈ کی انعامی رقم بھی دی جائے گی۔
یہ انعام ان خواتین ادیبوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے 60 سال کی عمر کے بعد ایسے ادبی ماحول میں اپنی شناخت بنائی جہاں خواتین، خصوصاً مختلف نسلی و ثقافتی پس منظر رکھنے والی خواتین، کے لیے مواقع محدود تھے۔
76 سالہ نکولس 1977 میں گیانا سے برطانیہ منتقل ہوئی تھیں۔ ان کی شاعری میں کیریبین کی زبانی روایات، گیانا کی لوک کہانیاں، غلامی کی تاریخ، شناخت اور برطانیہ میں نسل پرستی کے تجربات نمایاں ہیں۔ ان کی پہلی نمایاں کتاب "آئی اِز اے لانگ میموریڈ وومن” 1983 میں شائع ہوئی، جس پر انہیں دولتِ مشترکہ کا شعری انعام ملا۔ 1984 میں ان کا مجموعہ "دی فیٹ بلیک وومنز پوئمز” سامنے آیا۔
جیوری کی سربراہ اور انگلش پین کی چیئر روتھ بورتھوک نے نکولس کو عصرِ حاضر کی اہم ترین شاعرات میں سے ایک قرار دیا۔ ان کے مطابق نکولس نے کریول اور معیاری انگریزی کے امتزاج سے اپنی منفرد شعری زبان تشکیل دی ہے۔ جیوری کی رکن سارہ ہو نے کہا کہ ان کی شاعری میں زبانی روایت کی روانی اور تحریری ادب کی فنی ساخت دونوں موجود ہیں، جبکہ بچوں کے لیے ان کی تحریریں بھی اتنی ہی قابلِ قدر ہیں۔
انعام پر نکولس نے خوشی اور حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ شاعری، جیوری اور اپنے والدین کی شکر گزار ہیں جنہوں نے ان کی زندگی میں کتابوں کو اہمیت دی

