الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات منسوخ کر دیے

337661 100529450


الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے اب تک کیے گئے تمام اقدامات روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی جانب سے چار نومبر کو جاری کردہ آرڈر کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے اقدام کو سکیورٹی صورت حال اور صوبائی حکومت کے عدم تعاون سے جوڑا ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف اور جے یو آئی سمیت مخالفین اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں متعلقہ آرڈر کی شق نمبر دو کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے تحت آئین کے آرٹیکل 140۔اے کو معطل کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ اس آرٹیکل کی معطلی کا اطلاق پہلے سے مخصوص اضلاع کے علاوہ خیبر پختونخوا کے دیگر تمام اضلاع پر بھی کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ آئین کا آرٹیکل 140۔اے صوبوں میں مقامی حکومتوں کے قیام سے متعلق ہے، جبکہ اس کی ذیلی شق دو کے تحت مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے۔

الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 140۔اے کی معطلی کے بلدیاتی انتخابات کے جاری انتخابی عمل پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ اس حکم نامے کے باعث خیبر پختونخوا کے باقی اضلاع میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

الیکشن کمیشن نے ان انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں اب تک کیے گئے تمام اقدامات تا حکم ثانی روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد رواں سال مارچ اور جون میں مقامی حکومتوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد سے التوا کا شکار تھا۔ الیکشن کمیشن نے 29 اکتوبر کو حکم دیا تھا کہ صوبے کے ان اضلاع میں بلدیاتی انتخابات فوری کروائے جائیں جہاں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں، تاہم ایمرجنسی کے تحت نامزد 12 اضلاع کو اس عمل میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔

اس سے قبل وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو آئین پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے گورنر راج لگانے کا اعلان کیا تھا۔ وفاقی حکومت کے مطابق یہ اقدام صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کے عدم تعاون کے پیش نظر کیا گیا تھا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ