جرمنی کے صنعتی شہر Stuttgart سے ۱۳ کلو میٹر جنوب میں چار گاؤں پر مشتمل بیس ہزار آبادی کا قصبہ جسے Leinfelden-Echterdingen کا نام دیا گیا ہے آجکل خوب خبروں میں ہے ۔ ان چار گاؤں جنکو جرمن زبان میں Gemeinde کہا جاتا ہے کے نام ہیں ۔ Leinfelden , Echterdingen, Musberg, Stetten. ان کو 1976 میں قصبہ کا درجہ دے کر ضلع Esslingen سے منسلک کر دیا گیا ہے ۔ یہ Stuttgart ایر پورٹ کے رن وے کے مغرب کا علاقہ ہے ۔ Daimler Truck کی بہت بڑی فیکٹری یہاں ہے اور اب Stuttgart کا ٹریڈ سنٹر بھی تعمیر کیا گیا ہے ۔ اس علاقے میں مسلمانوں کی ایک تنظیم Verein für Kultur Bildung e.V ( VKBI) کے نام سے رجسٹر ہے ۔ اس تنظیم نے 2014 میں اپنے سنٹر اور مسجد کے لئے زمین خرید کر اس کا نقشہ منظور کروا لیا تھا ۔ لیکن تعمیر شروع نہی کی ۔ قانون کے مطابق اگر نقشہ کے پاس ہونے کے چار سال کے اندر تعمیر شروع نہ کی جاے تو نقشہ کی دوبارہ منظوری لینا پڑتی ہے ۔ لیکن اس تنظیم نے مقررہ مدت کے بعد مسجد تعمیر کی ۔ دیواریں کھڑی ہونے کے بعد ان کو قانونی نوٹس موصول ہوا ۔ جس کے بعد مقامی انتظامیہ اور مسلم تنظیم کے درمیان قانونی جنگ شروع ہو گئی ۔ بات جرمنی کی آئینی عدالت تک گئی اور جنوری 2024 میں آئینی عدالت نے مسلم تنظیم کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا ۔ اب صورت حال یہ ہے کہ مسجد مکمل تعمیر ہو چکی ہے جس کی تصاویر اخبارات میں بھی شائع ہو چکی ہیں ۔ مسلم تنظیم اور سٹی کونسل کے درمیان اس تنازعہ کو حل کرنے کے لئے ایک سے زائد کوشیشں ہو چکی ہیں ۔ لیکن مسلم تنظیم نے آئینی عدالت میں جا کر اپنی پوزیشن کمزور کر لی ۔ مقامی انتظامیہ قانونی جنگ جیتنے کے بعد بہر حال اس مسجد کو گرانے کے درپے ہے ۔ لیکن ساتھ متبادل جگہ دینے کو بھی تیار ہے ۔ کل شہر کی پارلیمنٹ میں نئی تعمیر شدہ مسجد کو گرانے پر ووٹنگ ہوئی تو بھاری اکثریت قانون کا سہارا لیتے ہوے مسجد کو گرانے کے حق میں ووٹ دیا ۔ گرین پارٹی جو ایسے معاملات میں غیر ملکیوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے اس نے بھی مسلمانوں کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کیا اور وجہ یہ بتائی کہ مسلم تنظیم کے عہدیداران ہمارے لئے قابل اعتبار نہی رہے ۔ وہ جو وعدہ کرتے ہیں چلتے اس کے الٹ ہیں ۔ نظر یہ آ رہا ہے کہ غریب محنت کش مسلمانوں کے چندہ سے بنی یہ مسجد ایندہ چند دنوں میں مسمار کر دی جاے گی ۔ نئی جگہ مسجد بنانے کے لئے یہ اسی جگہ مسجد کو از سر نو تعمیر کرنے کے لئے شاید دوبارہ محنت کش ہمت نہ کر پائیں ۔ Stuttgart شہر اور صوبہ میں مسلمانوں کی تعداد لاکھوں میں ہے لیکن سب اپنی اپنی جگہ مختلف قومیتوں میں تقسیم ہیں اور ہر قومیت کی اپنی مسجد ہے ۔ Leinfelden کی ترک کمیونیٹی حجم میں .ایک چھوٹی کمیونیٹی ہونے کے سبب دوبارہ مسجد کی تعمیر ان کے لئے آسان نہ ہو گا ۔ اس لئے ہم Leinfelden کی شہری انتظامیہ سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ چند عہد داران کی غلطی کی سزا .پوری کمیونیٹی کو نہ دی جاے اور جو مسجد تعمیر ہوچکی ہے اس کو بطور مسجد استعمال کرنے اور لوگوں کو عبادت کرنے کی اجازت دے دی جاے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انتظامیہ پر جرمانہ عائد کر کے درمیان کی راہ نکال لی جاے ۔ جرمنی میں رہنے والے پانچ ملین مسلمانوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ مسجد کو مسمار ہونے سے بچانے کے لئے غلطی تسلیم کرتے ہوے شہری اور صوبائی انتظامیہ سے پر امن درخواست کریں کہ وہ مسجد کو مسمار کرنے کا فیصلہ واپس لیں ۔ جرمنی میں رہنے والے مسلمانوں نے ہر شعبہ زندگی میں ملکی ترقی میں حصہ ڈالا ہے ۔ اگر چند افراد سے غلطی ہوئی ہے یا ان کا بضد رویہ انتظامیہ کے لئے قابل سرزنش ہے تو انتظامیہ لاکھوں دوسرے مسلمانوں کی دل جوئی کی خاطر اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کر کے اپنے ملک کے محنت کش مسلمانوں کے دل جیتے کی کوشش کرے ۔
متعلقہ پوسٹ
یوکرائن جنگ کی خاطر کم آمدنی والے شہریوں سے جرمن حکومت کی زیادتی ! از عرفان احمد خان
یو کرائن میں روس کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی نے یورپ کے تین اہم ممالک کے حکومتی بجٹ کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ فوری فوجی اخراجات کو پورا کرنے کے لئے رقم کی فراہمی ایک مسلہ بنی ہوئی ہے ۔ جرمنی کو بھی اپنے بجٹ پر نظر ثانی کرنی پڑی ۔ اس کے باوجود عوام کو حکومت کی…
ایران اسرائیل جنگ بندی: امن کا عارضی لمحہ یا طوفان سے پہلے کی خاموشی؟
گزشتہ چند ہفتوں سے ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے خطے کو ایک ممکنہ تباہ کن جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ ایک طرف ایران نے اسرائیلی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا تو دوسری جانب اسرائیل نے ایران کے کئی اہم ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ غزہ، لبنان اور شام کی سرحدوں پر بھی تناؤ کا ماحول…
مزاحمتی محاذ کو امریکہ کی طرف سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا جانا
۲۲ اپریل ۲۰۲۵ کو کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ۲۶ سیاحوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جس کی ذمہ داری مزاحمتی محاز نامی تنظیم نے قبول کی تھی ۔ اب واقعہ کے تین ماہ بعد امریکہ نے مزاحمتی محاز نامی تنظیم کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے ۔ لیکن اس ساتھ…
پاکستان کی معاشی صورت حال
پاکستان کی معاشی صورت حال اس وقت ایک مشکل اور پیچیدہ دور سے گزر رہی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ملک کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں مالی خسارہ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی، بیرونی قرضوں کا دباؤ، اور غیر مستحکم سیاسی صورتحال شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر پاکستان کی معیشت…
احسان بھولنے کی سیاست: پاک افغان تعلقات کا نیا موڑ
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ ایک نازک دھاگے سے بندھے رہے ہیں—ایک ایسا دھاگہ جو مذہب، تاریخ، ثقافت اور جغرافیہ سے مضبوط ہوتا رہا، لیکن سیاست اور خودغرضی کی تیز دھار اسے بار بار کاٹتی رہی۔ آج جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر خونریز صورت اختیار کر چکی ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے…
سات دہائیوں بعد پہلا قدم: پاکستان میں ٹریفک قوانین کی بیداری اور اجتماعی قومی غفلت
پاکستان میں ٹریفک قوانین پر جاری حالیہ کریک ڈاؤن نے اچانک پورے سماج کو اس تلخ حقیقت کے روبرو کر دیا ہے کہ ہم کئی دہائیوں تک ایسے بنیادی اصولوں سے بھی غافل رہے جن پر دنیا کی مہذب قومیں ابتدا سے عمل کرتی آئی ہیں۔ عالمی شہروں میں ٹریفک نظم و ضبط صدیوں سے تمدن کا لازمی جزو سمجھا…

