تحریر: محمد سلیم
نئی دہلی میں منعقد ہونے والی India AI Impact Summit 2026 کی ایک تصویر اس وقت عالمی ٹیک حلقوں میں زیرِ گردش ہے۔ یہ محض اسٹیج پر کھڑے چند افراد کی تصویر نہیں، بلکہ ایک عہد کی علامت ہے۔ اس تصویر میں وہ نام موجود تھے جو مصنوعی ذہانت کے اگلے باب کی تحریر کر رہے ہیں۔
اسٹیج پر Sundar Pichai، Sam Altman، Demis Hassabis، Dario Amodei، Alexandr Wang اور Brad Smith جیسے رہنما موجود تھے۔ یہ محض کمپنیوں کے سربراہ نہیں، بلکہ وہ معمار ہیں جو آنے والی دہائیوں کی ٹیکنالوجی کی سمت متعین کریں گے۔
یہ اجتماع اتفاق نہیں تھا۔ یہ اعتماد کا اظہار تھا۔ یہ اس امر کا اعلان تھا کہ عالمی ٹیک قیادت اس خطے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
اسی ہفتے اسلام آباد میں Indus AI Summit 2026 بھی منعقد ہوا۔ یہ بلاشبہ ایک مثبت پیش رفت تھی۔ ایک ارب ڈالر کی کمٹمنٹ کا اعلان بھی سامنے آیا۔ مگر دونوں اسٹیجز کا فرق خاموش مگر واضح تھا۔
دہلی کے اسٹیج پر مستقبل کھڑا تھا۔
اسلام آباد کے اسٹیج پر ارادہ موجود تھا — مگر وزن کم تھا۔
یہ فرق صلاحیت کا نہیں۔ پاکستان کے نوجوان عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ ہماری آئی ٹی ایکسپورٹس اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ ہزاروں پاکستانی انجینئر انہی عالمی اداروں میں کام کر رہے ہیں جن کے سربراہ دہلی میں موجود تھے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہم کر نہیں سکتے۔
مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہم نے وہ ماحول بنایا ہے جہاں عالمی قیادت خود آ کر کھڑی ہو؟
عالمی ادارے صرف مارکیٹ نہیں دیکھتے، وہ ماحول دیکھتے ہیں۔ پالیسی کا تسلسل، ریگولیٹری استحکام، ڈیٹا پروٹیکشن، انٹرنیٹ کی آزادی، اور ریاستی رویے میں پیشگوئی — یہی وہ عناصر ہیں جو اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ جہاں پالیسی غیر یقینی ہو، ٹیکس ڈھانچہ غیر واضح ہو، اور انٹرنیٹ بندشیں معمول بن جائیں، وہاں عالمی سرمایہ قدم رکھتے ہوئے ہچکچاتا ہے۔
ہمارے ہمسایہ ملک نے گزشتہ دہائی میں اپنا ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام منظم انداز میں ترتیب دیا — ڈیجیٹل شناخت، مربوط ادائیگی نظام، سرکاری خدمات کی ڈیجیٹائزیشن — اور اسی تسلسل نے عالمی ٹیک اداروں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ تسلسل نے اعتماد پیدا کیا، اور اعتماد نے سرمایہ کھینچا۔
پاکستان کے پاس وسائل ہیں، ٹیلنٹ ہے، جغرافیائی اہمیت ہے۔ کمی صرف تسلسل اور اعتماد کی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے رہنا وقتی نقصان نہیں، یہ اسٹریٹجک پسپائی ہے۔ دنیا جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، وہاں غیر متعلق ہو جانا بہت آسان ہے۔
ہمیں کانفرنسوں سے آگے بڑھ کر تعمیر کی ضرورت ہے۔
نیشنل اے آئی پالیسی کو عملی شکل، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سنجیدہ سرمایہ کاری، ریسرچ لیبز کا قیام، GPU تک رسائی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، اور سب سے بڑھ کر پالیسی کا مستقل مزاج تسلسل۔
کامیابی دعوت ناموں سے نہیں آتی — ماحول سے آتی ہے۔
یہ تصویر دراصل ایک آئینہ ہے۔ اس میں ہم دوسروں کو نہیں، خود کو دیکھ سکتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں صلاحیت ہے یا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم وہ ریاستی سنجیدگی پیدا کر سکتے ہیں جس پر عالمی ٹیک قیادت اعتماد کرے؟
کیونکہ اکیسویں صدی کی سب سے بڑی دوڑ میں صرف شامل ہونا کافی نہیں — باوقار موجودگی ضروری ہے۔

