21 گھنٹے۔ ایران، امریکہ مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں۔ مگر کہانی ختم نہیں ہوئی۔

IMG 20260411 WA1664 1

12 اپریل 2026۔ صبح ساڑھے چھ بجے اسلام آباد کا وقت۔ جے ڈی وینس سرینا ہوٹل سے باہر آیا۔ صحافیوں کے سامنے کھڑا ہوا۔ بہت مختصر بات کی۔ ایکسیوز نے فوری خبر چلائی: "امریکہ ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم۔”

وینس نے کہا: "جو بھی کمی رہی، وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں۔ انھوں نے شاندار کام کیا اور واقعی ہماری اور ایرانیوں کی فاصلے پاٹنے کی کوشش کی۔” پھر کہا: "ہم اکیس گھنٹے سے یہاں ہیں اور ایرانیوں کے ساتھ کئی ٹھوس بات چیت ہوئی۔ یہ اچھی خبر ہے۔ بری خبر یہ ہے کہ معاہدہ نہیں ہوا اور یہ ایران کے لیے امریکہ سے کہیں زیادہ بری خبر ہے۔”

سوال پوچھا گیا: ایرانیوں نے کیا مسترد کیا؟ وینس نے تفصیل میں جانے سے انکار کیا مگر ایک بات واضح کی: "سادہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ایران سے اس بات کا واضح عہد چاہیے کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور ایسے آلات حاصل نہیں کرے گا جو فوری طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے میں مدد دیں۔ نہ صرف ابھی، نہ صرف دو سال بعد، بلکہ طویل مدت کے لیے۔ ہم نے ابھی تک یہ عہد نہیں دیکھا۔ امید ہے کہ دیکھیں گے۔”

پھر وینس نے ایک اور جملہ کہا: "ہم کافی لچکدار تھے، کافی معاون تھے۔ صدر نے ہمیں کہا تھا کہ نیک نیتی سے جاؤ اور معاہدے کے لیے پوری کوشش کرو۔ ہم نے کیا۔ مگر ہم آگے نہیں بڑھ سکے۔”

اب اس بیان کو پڑھیں۔ الفاظ تولے ہوئے ہیں۔ وینس نے کئی پیغام دیے ہیں بیک وقت:

پہلا: پاکستان کو مکمل عزت دی۔ "شاندار میزبان” کہا۔ "ناکامی ان کی وجہ سے نہیں” کہا۔ یہ سفارتی زبان میں اعلان ہے کہ امریکہ پاکستان کے ثالثی کردار سے مطمئن ہے اور مستقبل میں بھی اسی راستے سے آئے گا۔

دوسرا: ایران پر الزام رکھا۔ "انھوں نے ہماری شرائط قبول نہیں کیں” کہا۔ مگر دروازہ بند نہیں کیا۔ "امید ہے دیکھیں گے” کہا۔ "ابھی تک” کے الفاظ استعمال کیے۔ "ابھی تک” کا مطلب ہے "ابھی نہیں مگر شاید بعد میں۔”

تیسرا: ایٹمی نکتے کو مرکزی بنایا۔ آبنائے ہرمز نہیں، لبنان نہیں، منجمد اثاثے نہیں۔ ایٹمی ہتھیار۔ یہ ٹرمپ کا بھی تازہ ترین موقف ہے جو اس نے جمعے کو واضح کیا تھا: "ایٹمی ہتھیار نہیں۔ یہی بنیادی مقصد ہے۔” وینس نے ٹرمپ کے بیانیے سے ہٹ کر کچھ نہیں کہا۔ وفادار رہا۔

مگر ایرانی طرف سے کہانی مختلف ہے۔

ایران کی حکومت نے ایکس پر لکھا: "14 گھنٹے کی بات چیت کے بعد مذاکرات فی الحال ختم ہو گئے ہیں۔ کچھ اختلافات باقی ہیں مگر مذاکرات جاری رہیں گے۔” ایرانی ریاستی ٹی وی کے نامہ نگار نے بتایا کہ مذاکرات اتوار کو جاری رہیں گے۔ سی این بی سی نے تصدیق کی۔ یعنی ایران نہیں مانتا کہ مذاکرات ناکام ہوئے۔ ایران کہتا ہے مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے، ایک وقفہ ہے۔

فرق سمجھیں: وینس کہتا ہے "ہم واپس جا رہے ہیں، معاہدہ نہیں ہوا۔” ایران کہتا ہے "مذاکرات جاری رہیں گے۔” یہ دو مختلف بیانیے ہیں اور دونوں بیک وقت سچ ہو سکتے ہیں۔ وینس واپس جا رہا ہے مگر تکنیکی ٹیمیں رہ سکتی ہیں۔ سیاسی سطح کا دور ختم ہوا مگر ماہرین کی سطح کا دور جاری رہ سکتا ہے۔

یہاں ایک بات اور سمجھنی ضروری ہے۔ وینس نے "quite flexible” اور "quite accommodating” کے الفاظ استعمال کیے۔ یہ الفاظ سفارتکاری میں اپنی پوزیشن ظاہر کرنے کے لیے بہت کم استعمال ہوتے ہیں۔ عام طور پر فریق کہتا ہے "ہماری پوزیشن واضح ہے۔” وینس نے کہا "ہم لچکدار تھے۔” اس کا مطلب ہے کہ وینس اندرونی طور پر جانتا ہے کہ امریکی پوزیشن میں کمزوری تھی اور وہ عوام کو پیغام دے رہا ہے: ہم نے پوری کوشش کی، ناکامی ہماری وجہ سے نہیں۔

ایم ایس ناؤ نے اپنے تجزیاتی مضمون میں لکھا تھا کہ وینس کے لیے یہ مذاکرات "زہر میں بجھا ہوا پیالہ” ہیں۔ اگر کامیابی ہو تو سہرا ٹرمپ کا ہو گا۔ اگر ناکامی ہو تو الزام وینس پر آئے گا۔ اور اگر جنگ بندی ٹوٹے تو "ٹرمپ اپنے نائب صدر کو بس کے نیچے پھینک دے گا۔” کرسچین سائنس مانیٹر نے سابق امریکی خصوصی ایلچی مچل ریس کا حوالہ دیا: "آپ مہاتما گاندھی بن کر بھی امریکہ کی نمائندگی میں آئیں تو ایرانیوں پر اس وقت اثر نہیں ہو گا۔” سٹمسن سنٹر کی بربارا سلاوین نے کہا کہ دونوں فریقوں کے مطالبات اتنے دور ہیں کہ پیش رفت کے امکانات کم ہیں۔

اب سب سے اہم سوال: جنگ بندی کا کیا ہو گا؟

جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہوتی ہے۔ دس دن باقی ہیں۔ وینس بغیر معاہدے کے واپس جا رہا ہے مگر ایران کہتا ہے بات جاری رہے گی۔ ایکسیوز نے لکھا: "مذاکرات کا تعطل دو ہفتے کی جنگ بندی کو غیر یقینی صورتحال میں رکھتا ہے اور جنگ کے دوبارہ بھڑکنے اور بڑھنے کا امکان ہے۔”

وینس نے ایک اور جملہ کہا جو نوٹ کرنے کا ہے: "ہم نے اپنی سرخ لکیریں واضح کر دی ہیں، جن نکات پر ہم انھیں جگہ دینے کو تیار ہیں اور جن پر نہیں ہیں، وہ بھی واضح کر دیے ہیں۔ ہم نے زیادہ سے زیادہ واضح ہونے کی کوشش کی اور انھوں نے ہماری شرائط قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔”

"انھوں نے فیصلہ کیا” اور "ہم نے فیصلہ کیا” میں فرق ہے۔ وینس نے الزام ایران پر رکھا۔ مگر ذرا ولی نصر کی بات یاد کریں: ایران سمجھتا ہے کہ وٹکاف اور کشنر کو مسائل پر گرفت نہیں تھی۔ کیا آج رات بھی وہی ہوا؟ 71 ماہرین نے تکنیکی نکات اٹھائے اور تین آدمیوں کے پاس ان کا جواب نہیں تھا؟ ابھی یہ واضح نہیں ہے۔ ایرانی طرف سے تفصیلی بیان آنا باقی ہے۔

فی الحال حقائق یہ ہیں:

اکیس گھنٹے مذاکرات ہوئے۔ تین رسمی دور ہوئے۔ پہلا بالواسطہ، دوسرا براہ راست، تیسرا تکنیکی۔ ساتھ کھانا کھایا گیا۔ 47 سال بعد پہلی بار آمنے سامنے ملاقات ہوئی۔ ایٹمی عہد، آبنائے ہرمز اور لبنان تین بڑے اختلافات رہے۔ وینس واپس جا رہا ہے۔ ایران کہتا ہے بات جاری رہے گی۔ پاکستان کو دونوں طرف سے عزت ملی۔

نو ڈیل – مگر کہانی ابھی باقی ہے!

مگر سب سے بڑی بات وہ ہے جو وینس نے سب سے پہلے کہی: "جو بھی کمی رہی، وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں۔”

یہ جملہ سفارتی زبان میں سرٹیفیکیٹ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غالباً اگلا دور بھی اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔ ثالث بھی پاکستان ہو گا۔

معاہدہ نہیں ہوا مگر دروازہ بھی بند نہیں ہوا۔ وینس نے "ابھی تک” کہا ہے "ختم” نہیں کہا۔ ایران نے "وقفہ” کہا ہے "ناکامی” نہیں کہا۔ اور اس "ابھی تک” اور "وقفے” کے درمیان جو جگہ ہے وہیں پاکستان کھڑا ہے۔

اکیس گھنٹے ضائع نہیں ہوئے۔ اکیس گھنٹوں میں 47 سال کی خاموشی ٹوٹی ہے۔ اکیس گھنٹوں میں سرخ لکیریں واضح ہوئی ہیں۔ اکیس گھنٹوں میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا ہے۔ اور جب آنکھوں میں دیکھنے کا مرحلہ آ جائے تو بم گرانا مشکل ہو جاتا ہے۔

22 اپریل قریب ہے۔ دس دن باقی ہیں۔ ان دس دنوں میں دو میں سے ایک بات ہو گی: یا تو ماہرین کی سطح پر بات آگے بڑھے گی اور وینس دوبارہ آئے گا۔ یا جنگ بندی ختم ہو گی اور بم دوبارہ گریں گے۔

پاکستان نے اپنا کام کر دکھایا. اب دنیا کے باقی چاچے مامے درمیان میں آئیں. . اپنی ساکھ داؤ پر لگا کر 21 ویں صدی کے خون ریز تنازعہ میں امن کے لیے مہلت پیدا کرنے کی کوشش کی. دنیا میں اپنی نوعیت کے سب سے بڑے حریفوں کو سامنے لا بٹھایا. شاباش پاکستان!

کہانی ابھی باقی ہے میرے دوست!

عارف انیس

متعلقہ پوسٹ

  • !اپنے بینچ خود بنائیں

    ’مجھے حکومت کے تمام محکمہ جات، یونیورسٹیز اور دیگر سرکاری اداروں میں نئے مالی سال میں فرنیچر کی مد میں رکھے گئے بجٹ کی تفصیلات درکار ہیں۔‘ سنتیس سالہ نوجوان صدر مملکت برکینا فاسو ابراہیم تراورے  نےاپنے سیکریٹری کو حکم  دیا۔ حسب ہدایت ساری تفصیلات حاضر کردی گئیں۔ صدر نے سب کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ  فرنیچر کی مد…

  • عیدِ قربان

    تحریر: آسیہ خٹک ہر تہوار کی اپنی ایک الگ اہمیت ہوتی ہے اور ان تہواروں میں عیدین سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ۔ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دو تہواروں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن تمہارے لیے مقرر فرما دیے ہیں: 1۔…

  • 🚨ابسالیوٹلی ناٹ!!!

    تحریر: سینئر صحافی عارف انیس ایران، امریکہ، اسرائیل جنگ میں پوری دنیا میں اگر ایک شخص نے اپنی لیڈرشپ سے متاثر کیا ہے تو وہ سپینش پرائم منسٹر سانچیز ہیں جنہوں نے فلسطین اور ایران کی کھل کر سپورٹ کی اسرائیل اور امریکہ کو بھرپور تابڑ توڑ مکے مارے، حتیٰ کہ دنیا کے باقی لیڈر بھی ان کے ساتھ آن…

  • ماہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل مہنگائی کا طوفان

    کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی ​ماہِ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، وہ مبارک گھڑیاں جن کا انتظار مومن کا دل سال بھر تڑپائے رکھتا ہے، اب بس دستک دے رہی ہیں۔ رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا یہ عظیم الشان قافلہ اپنے جلو میں سکونِ قلب اور تزکیہِ نفس کے انمول تحائف لیے وارد ہونے والا ہے لیکن صد افسوس…

  • افغانستان کی پاکستان میں مداخلت کی تاریخ

    تحریر (محمد سلیم وائس آف جرمنی) 30 ستمبر 1947ء کو افغانستان دنیا کا واحد ملک بنا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ دیا۔ستمبر 1947ء میں ہی افغان حکومت نے کابل میں افغان جھنڈے کے ساتھ ” پشتونستان” کا جعلی جھنڈا لگا کر آزاد پشتونستان تحریک کی بنیاد رکھی۔47ء میں ہی افغان ایلچی نجیب اللہ نے…

  • پی آئی اے کی نجکاری: قومی بوجھ سے قومی مفاد تک

    تحریر و اہتمام محمد سلیم سے 🙂 دنیا کی تاریخ میں کئی قومی ادارے ایسے رہے ہیں جو ایک وقت میں ریاستی فخر سمجھے جاتے تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ناقص انتظام، سیاسی مداخلت اور مالی بے ضابطگیوں کے باعث وہی ادارے قومی خزانے پر بوجھ بن گئے۔ معاشیات کی زبان میں ایسے اداروں کو “سفید ہاتھی” کہا جاتا…