اسلام آباد —
امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے اختتام پذیر ہو گئے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان روانگی سے قبل کہا کہ وہ "نیک نیتی” کے ساتھ آئے تھے، تاہم ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے حوالے سے کوئی واضح اور بنیادی یقین دہانی نہیں دی۔
ایران کی وزارت خارجہ نے مذاکرات کو "انتہائی گہرے اور سنجیدہ” قرار دیتے ہوئے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ "حد سے بڑھے ہوئے مطالبات اور غیر قانونی درخواستوں” سے باز رہے۔ مذاکرات میں آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی اہم معاملات زیرِ بحث آئے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ سہ فریقی مذاکرات اتوار تک جاری رہے۔ پاکستانی ذرائع کے حوالے سے غیر ملکی میڈیا نے بتایا کہ مجموعی ماحول مثبت رہا، تاہم آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر تعطل برقرار رہا — وہی آبی گزرگاہ جہاں امریکہ نے ہفتے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کا آپریشن شروع کیا تھا۔
یہ مذاکرات تاریخی اہمیت کے حامل تھے کیونکہ امریکہ اور ایران نے کسی ثالث کے بغیر براہ راست ایک میز پر بات کی — جو دونوں ممالک کے درمیان کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

