اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے اور امارات کی جانب سے صومالی علاقے کو استعمال کر کے ایک یمنی علیحدگی پسند کو مبینہ طور پر فرار ہونے میں مدد دینے کی وجہ سے پیدا کشیگی کے تناظر میں صومالیہ نے پیر کو متحدہ عرب امارات کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ کر دیے ہیں۔
ایک بیان کے مطابق وزرا کونسل کی جانب سے منسوخ معاہدوں میں دو طرفہ سکیورٹی اور دفاعی تعاون کے بھی شامل ہیں۔
حالیہ دنوں میں صومالیہ اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کئی مسائل پر گہرے اختلافات بڑھ گئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کو گذشتہ ماہ اسرائیل کے اس اقدام کی خاموش حمایت کرنے والا سمجھا جاتا ہے جس میں اس نے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا، جو 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کرنے والے خود ساختہ جمہوریہ کے بعد پہلا ملک ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
متحدہ عرب امارات نے صومالی لینڈ کے بربرا میں ایک بڑا گہرا پانی والا بندرگاہ اور فوجی اڈہ تعمیر کیا اور اسے چلاتا ہے۔
تناؤ گذشتہ ہفتے دوبارہ بڑھ گیا جب سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا کہ وہ یمنی علیحدگی پسند رہنما، عیداروس الزبیدی، کو بربرا اور موغادیشو کے ذریعے کشتی اور طیارے سے ابوظبی بھاگنے میں مدد کر رہی ہے۔
صومالیہ کی امیگریشن ایجنسی نے اس وقت کہا تھا کہ وہ ’صومالیہ کے قومی فضائی حدود اور ایئرپورٹس کے مبینہ غیر مجاز استعمال‘ کی تحقیقات کر رہی ہے۔
صومالیہ کی حکومت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدوں منسوخ کرنے کے بیان میں صومالی لینڈ کی تسلیم شدگی یا زبیدی کے مبینہ فرار کا براہ راست ذکر نہیں کیا۔
اس نے کہا کہ یہ فیصلہ ’ملکی خودمختاری، علاقائی وحدت اور ملک کی سیاسی آزادی کو نقصان پہنچانے والی دشمنی آمیز کارروائیوں کے بارے میں معتبر رپورٹس اور مجبور کن شواہد کی بنیاد پر‘ کیا گیا ہے۔

