(سلیم رضا)طلباء نے ڈھاکہ سنٹرل یونیورسٹی کے مجوزہ آرڈیننس کو جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دارالحکومت ڈھاکہ میں سائنس لیب اور ٹیکنیکل چوراہوں کو بند کر دیا ہے۔
انہوں نے جمعرات کو دوپہر کے قریب سڑک پر پوزیشنیں سنبھال لیں، جس سے پورے ڈھاکہ شہر میں شدید ٹریفک جام ہو گیا، جس سے عام لوگوں اور مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
ڈھاکہ کے تیتومیر کالج اور بنگلہ کالج کے طلباء نے جمعرات کو تقریباً 2:51 بجے تکنیکی چوراہے پر پوزیشنیں سنبھالیں،اگرچہ ڈھاکہ میں طلبہ نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگا کر سڑکیں بند کر رکھی ہیں لیکن عام شہری طویل عرصے سے ٹریفک جام میں پھنسے رہ کر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو اپنی منزلوں تک پہنچنے کے لیے میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے جس سے عوامی زندگی میں گھٹن کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
طلباء کی اس حرکت کے باعث میرپور روڈ اور گردونواح میں گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر ٹھپ ہوگئی ہے جس سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:750 روپے مالیت کے قومی انعامی بانڈز کے نتائج کا اعلان
اگرچہ ڈھاکہ کے سات کالجوں کے بحران کو حل کرنے کے لیے 2017 سے مختلف اقدامات کیے جا چکے ہیں، تاہم طلبہ مکمل طور پر خود مختار یونیورسٹی کے اپنے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
بنگلہ دیش کی وزارت تعلیم کے ذرائع کے مطابق مجوزہ ڈھاکہ سینٹرل یونیورسٹی آرڈیننس کا نظرثانی شدہ مسودہ بنگلہ دیش کی وزارت پبلک ایڈمنسٹریشن کو بھجوا دیا گیا ہے، کابینہ ڈویژن کی اصولی منظوری اور وزارت قانون کی جانچ کے بعد مسودہ جلد ایڈوائزری کونسل میں پیش کیا جائے گا۔


