اسلام آباد: وزیرِاعظم شہباز شریف کی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود صارفین ممکنہ ریلیف سے محروم رہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق پیٹرول پر فی لیٹر لیوی میں 4 روپے 65 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد لیوی 79 روپے 62 پیسے سے بڑھ کر 84 روپے 27 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل پر فی لیٹر لیوی میں 80 پیسے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد یہ 75 روپے 41 پیسے سے بڑھ کر 76 روپے 21 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق اگر لیوی میں اضافہ نہ کیا جاتا تو پیٹرول کی قیمت میں تقریباً ساڑھے چار روپے فی لیٹر کمی ممکن تھی۔ تاہم حکومت نے اضافی محصولات کے حصول کو ترجیح دیتے ہوئے قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل نہیں کیا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 31 جنوری تک پیٹرول اور ڈیزل کی موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 253 روپے 17 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 257 روپے 8 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی میں اضافہ مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑنے کا خدشہ ہے۔

