وزیراعظم کا نیووٹیک کی کارکردگی پر اطمینان، فنی و تکنیکی تربیت کے نئے اہداف مقرر کرنے کی ہدایت

IMG 20260112 WA19581


اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیووٹیک) کی حالیہ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فنی و تکنیکی تربیتی پروگرامز کے لیے نئے اہداف کے تعین اور اپرینٹس شپ قانون پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
یہ ہدایات وزیراعظم کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں ملک میں پیشہ ورانہ تربیت کے نئے متعارف کردہ ایکوسسٹم پر جائزہ اجلاس کے دوران دی گئیں، جس میں نیووٹیک کے تحت جاری تربیتی پروگرامز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی افرادی قوت کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانے کے لیے بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز کی فراہمی خوش آئند اقدام ہے۔ انہوں نے خلیجی ممالک میں پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کی کھپت بڑھانے کے لیے وزارتِ خارجہ اور وزارتِ سمندر پار پاکستانیوں کو اقدامات میں تیزی لانے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ نیووٹیک کے تحت تکنیکی و فنی تربیتی پروگرامز کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور نوجوان افرادی قوت کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے جامع پروگرامز کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ وزیراعظم نے نیووٹیک کے تمام پارٹنر تربیتی اداروں میں طلبہ اور اساتذہ کے لیے بائیو میٹرک حاضری کے نظام کے نفاذ، جبکہ غیر تسلی بخش کارکردگی دکھانے والے اداروں کے خلاف کارروائی کی بھی ہدایت دی۔
وزیراعظم نے صوبائی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھاتے ہوئے نیووٹیک کے پروگرامز کو وسعت دینے، نظام کی مکمل ڈیجیٹائزیشن اور آن لائن مانیٹرنگ کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر زیادہ طلب والے ہنر کے حوالے سے نوجوانوں کو بین الاقوامی سرٹیفیکیشن کے ساتھ تربیت دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیووٹیک کے تحت پاکستان کا پہلا اسکل بیسڈ بانڈ جاری کیا جا چکا ہے، جس کے ذریعے نجی شعبے سے نتائج کی بنیاد پر فنڈنگ حاصل کی جائے گی۔ اس کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، فِن ٹیک، کان کنی، سیاحت، اسپورٹس، ہاسپیٹیلٹی، شپ بلڈنگ اور دیگر شعبوں میں عالمی طلب کے مطابق تربیتی پروگرامز ملک بھر میں جاری ہیں۔
بریفنگ کے مطابق گزشتہ برس نیووٹیک کے ذریعے 1 لاکھ 46 ہزار افراد نے تربیت حاصل کی، جبکہ 15 ہزار سے زائد افراد کو بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز دی گئیں۔ تکامل پروگرام کے تحت 3 لاکھ سے زائد افراد نے تربیت حاصل کی اور 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد سعودی عرب میں برسرِ روزگار ہوئے۔ مزید برآں، 350 سے زائد اداروں کو جانچ پڑتال کے بعد بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کرنے کا لائسنس جاری کیا گیا۔
اجلاس میں نجی شعبے کے تھرڈ پارٹی ویلیڈیٹرز، صنعتی شراکت داروں، چیمبرز آف کامرس، کاروباری ایسوسی ایشنز اور مصنوعی ذہانت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین نے بھی شرکت کی۔
وزیراعظم نے اجلاس کے اختتام پر نیووٹیک کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مستقبل میں مزید بہتری کے لیے نئے اہداف مقرر کرنے کی ہدایت کی۔

متعلقہ پوسٹ