واشنگٹن/برسلز – امریکا نے نیٹو (شمالی بحر اوقیانوس کی معاہدہ تنظیم) میں اپنے عملے میں کمی کا اہم فیصلہ کیا ہے جس سے یورپی اتحادیوں میں گہری تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام فوجی اعتبار سے محدود ہے لیکن سیاسی اور علامتی طور پر انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکا اور یورپ کے درمیان سات دہائیوں پر محیط دفاعی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یورپی رہنماؤں نے اس فیصلے کو تشویش سے دیکھا ہے۔ نیٹو ہیڈکوارٹرز برسلز میں ذرائع کے مطابق، اتحادی ممالک امریکی عزم میں کمی کے امکانات سے پریشان ہیں، خاص طور پر موجودہ عالمی سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے اور یورپی دفاعی خودمختاری کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین کی رائے میں اس فیصلے سے یورپی ممالک کو دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے اور خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر اثر پڑ سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، یہ اقدام صرف فوجی نہیں بلکہ بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کا ہے جو عالمی طاقت کے مراکز میں منتقلی کی عکاسی کرتا ہے اور ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔

