پی ٹی اے بمقابلہ ایکس: عمران خان کا اکاؤنٹ کیوں بند نہ ہو سکا؟

Screenshot 20260122 131713


پاکستان میں سوشل میڈیا پر ریاستی کنٹرول اور اظہارِ رائے کی آزادی کے درمیان کشمکش ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے تین مرتبہ عمران خان کا ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ بند کرانے کی کوششیں اسی کشمکش کی واضح مثال بن کر سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی اے نے پہلی بار 21 اگست 2022 کو ایکس انتظامیہ کو عمران خان کا اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست کی۔ یہ وہ دور تھا جب عمران خان حکومت سے علیحدگی کے بعد بھرپور سیاسی مہم چلا رہے تھے اور ان کی سوشل میڈیا موجودگی غیر معمولی طور پر مؤثر ہو چکی تھی۔ بعد ازاں 18 اپریل 2024 کو دوسری جبکہ 27 نومبر 2025 کو تیسری بار ایکس انتظامیہ سے باضابطہ رابطہ کیا گیا، مگر تینوں مواقع پر ایکس نے اکاؤنٹ بند کرنے سے انکار کر دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایکس انتظامیہ کا مؤقف عالمی سوشل میڈیا پالیسیوں کے عین مطابق ہے، جہاں کسی بھی اکاؤنٹ کو بند کرنے کے لیے واضح طور پر پلیٹ فارم قوانین کی خلاف ورزی ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔ محض سیاسی دباؤ یا مقامی انتظامی درخواستیں اس ضمن میں کافی نہیں سمجھی جاتیں۔
دوسری جانب پی ٹی اے کا مؤقف یہ رہا ہے کہ بعض اوقات ریاستی سلامتی، عوامی نظم و نسق اور حساس حالات کے تناظر میں سوشل میڈیا مواد پر پابندیاں ناگزیر ہو جاتی ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستانی قوانین کو اس وقت تک لاگو نہیں کرتے جب تک وہ عالمی ضوابط سے متصادم نہ ہوں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ نہ صرف ان کی جماعت بلکہ ایک وسیع عوامی بیانیے کا ذریعہ بن چکا ہے، جس کے ذریعے وہ براہِ راست اپنے حامیوں تک رسائی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکاؤنٹ بند نہ ہونے کو ان کی سیاسی طاقت اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ معاملہ پاکستان میں ڈیجیٹل ریگولیٹری نظام، عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی خودمختاری اور سیاسی اظہار کی حدود پر ایک اہم سوالیہ نشان بن چکا ہے، جس کے اثرات مستقبل کی سوشل میڈیا پالیسیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

screenshot 20260122 131814 16038018707252392416
پی ٹی اے بمقابلہ ایکس: عمران خان کا اکاؤنٹ کیوں بند نہ ہو سکا؟ 3

متعلقہ پوسٹ