(ویب ڈیسک)جاپان کی وزیرِ اعظم سنائے تاکائچی نے پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کو تحلیل کر دیا جس کے بعد 8 فروری کو قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق سپیکر نے آج پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے، پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد 12 روزہ انتخابی مہم کا آغاز آئندہ منگل سے کیا جائے گا۔
سنائے تاکائچی اکتوبر میں جاپان کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم منتخب ہوئی تھیں اور3 ماہ کے مختصر عرصے میں ان کی مقبولیت کی شرح تقریباً 70 فیصد بتائی جا رہی ہے، وہ اپنی ذاتی مقبولیت کو استعمال کرتے ہوئے حکمران جماعت کی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمران اتحاد جس میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور جاپان انوویشن پارٹی شامل ہیں،ایوانِ زیریں میں معمولی اکثریت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جاپانی عوام کی سب سے بڑی تشویش مہنگائی ہے۔
دوسری جانب جاپانی سرکاری نشریاتی ادارے ’این ایچ کے‘ کے مطابق انتخابی مہم میں مہنگائی پر قابو اور چین کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اہم موضوعات ہوں گے۔
واضح رہے کہ جاپان کے چین کے ساتھ تعلقات اس وقت کشیدہ ہوئے جب وزیرِ اعظم تاکائچی نے نومبر میں تائیوان سے متعلق بیان دیا، اس کے بعد چین نے جاپان کے خلاف معاشی اور سفارتی اقدامات کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : پنجاب پولیس اور ملٹری انٹیلیجنس کی کچہ ایریا میں مشترکہ کارروائی بڑی کامیابی حاصل کر لی


