(24نیوز) امریکہ کی ریاست منی سوٹا کے مرکزی شہر منیاپولس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وفاقی ایجنسی کے امیگریشن ایجنٹوں نے ایک اور امریکی شہری کو قتل کر دیا۔ شہر میں پہلے ہی امیگرنٹس کے ساتھ ظلم کو روکنے کے لئے آگے آنے والی ایک امریکی شہری خاتون کے بہیمانہ قتل پر شدید احتجاج ہو رہا تھا، امریکی شہری کے قتل کے نئے واقعہ پر کئی شہروں میں شدید احتجاج شروع ہو گیا۔
آج اتوار 25 جنوری کو میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ کی ہوم لینڈ سکیورٹی کے اہلکاروں نے منیاپولس شہر مین ایک امریکی شہری کو گولی مار کر قتل کر دینے کے بعد بتایا ہے کہ انہوں نے یہ قتل سیلف ڈیفینس میں کیا۔ اس قتل سے شہر میں اشتعال اور غصہ پھیل گیا ہے۔
فیڈرل ایجنٹوں کی گولی سے مرنے والا شخص امریکی شہری تھا۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی کا دعویٰ ہے کہ ایجنٹوں نے دفاع میں فائرنگ کی۔
انٹرنیشنل نیوز ایجنسی روئیٹرز نے رپورٹ کیا کہ اس واقعہ کی ویڈیوز وفاقی ہوم لینڈ سکیورٹی کے حکام کے ورژن سے متصادم دکھائی دیتی ہیں۔
منیاپولس کے میئر اور اور ریاست منیسوٹا کے گورنر نے امیگریشن آپریشن فوراً ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس واقعہ کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی الٹا شہر کے لوگوں پر ہی الزام دھر دیا اور دعویٰ کیا کہ مقامی رہنما ‘بغاوت کو ہوا دے رہے ہیں’
فیڈرل ایجنٹوں کی فائرنگ کا پس منظر
منیاپولس شہر اس سال کے آغاز سے ہی امیگرنٹس کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی حکم پر چلائی جا رہی تشدد بھری مہم کے خلاف شدید احتجاج کر رہا ہے۔ اس مہم میں فیڈرل ایجنسیوں کے اہلکاروں کو استعمال کیا جا رہا ہے جو صدر ٹرمپ کی حکومت کے تابع ہیں۔ شہر اور ریاست میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ھکومت ہے جو امیگرنٹس کے معاملات پت ٹرمپ کی پالیسیوں سے بالکل مختلف بنیادی انسانی حقوق پر مبنی مؤقف رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: امیگرنٹس پر کریک ڈاؤن کیخلاف منفی29ڈگری سینٹی گریڈ موسم میں پچاس ہزار شہریوں کا احتجاج، درجنوں گرفتاریاں
سات جنوری کو شہر میں فیڈرل ایجنٹوں نے ایک امریکی شہری خاتون کو ان کی گاڑی میں گولیاں مار کر قتل کیا تھا جس سے احتجاج شدید تر ہو گیا تھا۔ جمعہ کے روز شہر میں منفی 29 ڈگری سیلسئیس ٹمپریچر تھا اور پچاس ہزار افراد فیڈرل ایجنٹوں کو شہر سے نکالنے کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے۔ اس احتجاج میں منیاپولس کے درجنوں پاسٹروں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

آج کیا واقعہ ہوا
امریکی امیگریشن ایجنٹوں نے ہفتے کے روز منیاپولس میں ایک امریکی شہری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ حکام نے بتایا کہ اس ماہ اس نوعیت کے دوسرے واقعے کے بعد مقامی رہنماؤں کی جانب سے شدید احتجاج اور مذمت کی گئی۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے نے اس واقعے کو ایک حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک بارڈر پیٹرول ایجنٹ نے اپنے دفاع میں اس وقت گولی چلائی جب ایک شخص ہینڈ گن لے کر آیا اور اسے غیر مسلح کرنے کی کوششوں کی پرتشدد مزاحمت کی۔
فیڈرل ایجنسی کا دعویٰ جھوٹ نکلا؛ روئٹرز سچ سامنے لے آیا
انٹرنیشنل نیوز ایجنسی روئٹرز نے ایک تصدیق شدہ ویڈیو زریلیز کی ہیں جو دعوے کی تردید کر رہی ہیں۔ روئٹرز کے ذریعے تصدیق شدہ حیثیت سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں اس شخص کو دکھایا گیا، جس کی شناخت 37 سالہ نرس الیکس پریٹی کے نام سے کی گئی تھی، اس نے اپنے ہاتھ میں فون پکڑا ہوا تھا، کوئی بندوق نہیں تھی، جب وہ دوسرے مظاہرین کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا تھا جنہیں ایجنٹوں نے زمین پر دھکیل دیا تھا۔
یہ واقعہ ایک احتجاج کے دوران پیش آیا تھا اور بہت سے لوگ وہاں موجود تھے۔
جیسے ہی ویڈیوز شروع ہوتی ہیں، مقتول پریٹی کو فلم بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب ایک وفاقی ایجنٹ ایک عورت کو دھکیل کر دوسرے شخص کو زمین پر دھکیل دیتا ہے۔ پریٹی اس فیڈرل ایجنٹ اور احتجاج کرنے والی خواتین کے درمیان گھومتا ہے، پھر اپنے آپ کو بچانے کے لیے اپنا بایاں بازو اٹھاتا ہے اور ایجنٹ کی جانب سے مرچوں کا سپرے چھڑکتے ہی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
پریٹی مڑ کر اس عورت کی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے جو گر گئی تھی کیونکہ ایجنٹ اسے اسپرے کرتا جا رہا ہوتا ہے۔ جیسے ہی پریٹی عورت کو اٹھاتا ہے، ایجنٹ نے اسے اس خاتون سےپرے کھینچ لیا اور پریٹی کو کئی ایجنٹوں نے زبردستی اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں پر دبا دیا۔ ان میں سے ایک پریٹی کی بیلٹ میں سے ایک چیز کھینچتا ہے اور پھر تیزی سے جائے وقوعہ سے دور چلا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: امیگرنٹس کےساتھ امریکی فیڈرل ایجنٹس کی بےرحمی کی ایک اور کہانی سامنےآگئی
چند لمحوں بعد، ہینڈگن کے ساتھ ایک افسر نے پریٹی کی پیٹھ کی طرف اشارہ کیا اور اس پر یکے بعد دیگرے چار گولیاں برسائیں۔ اس کے بعد مزید کئی گولیاں سنی جا سکتی ہیں کیونکہ ایک اور ایجنٹ پریٹی پر فائرنگ کرتا دکھائی دیتا ہے۔
ایجنٹ ابتدائی طور پر پریٹی کی لاش سے سڑک پر واپس چلے گئے۔ اس کے بعد کچھ ایجنٹ پریٹی کو طبی امداد کی پیشکش کرتے نظر آتے ہیں جبکہ وہ زمین پر گرا ہوا ہے، جیسا کہ دوسرے ایجنٹس پاس کھڑے ہونے والوں کو پیچھے رکھتے ہیں۔

انتہائی نگہداشت کے نرس، پریٹی پر ہونے والی فائرنگ نے سینکڑوں مظاہرین کو مسلح اور نقاب پوش ایجنٹوں کا مقابلہ کرنے کی طرف متوجہ کیا، فیڈرل ایجنٹوں نے آنسو گیس اور فلیش بینگ گرینیڈز استعمال کئے۔
اس سفاکانہ قتل کے بعد نیویارک، واشنگٹن ڈی سی اور سان فرانسسکو سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرے پھوٹ پڑے۔
اس قتل نے ریاستی اور وفاقی حکام کے درمیان تناؤ کو بھی بڑھایا، جو پہلے ہی 7 جنوری کو ایک اور امریکی شہری رینی گڈ کو گولی مار دیے جانے پر ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اختلافات کا شکار ہیں۔
وفاقی ایجنٹس نے مقامی حکام کو واقعے کی تحقیقات میں حصہ لینے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ شخص ایک قانونی پستول کا مالک تھا۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سکریٹری کرسٹی نوم نے صحافیوں کو بتایا کہ ہفتے کے روز جاں بحق ہونے والے شخص نے امیگریشن کے ایک چھاپے کے دوران ایجنٹوں پر حملہ کیا تھا۔ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نوم نے یہ نہیں بتایا کہ کیا اس مقتول نے اپنا ہتھیار نکالا تھا۔ وفاقی حکام نے اس پستول کی ایک تصویر پوسٹ کی جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ شوٹنگ کے وقت پریٹی کےساتھ تھی۔
فیڈرل ایجنٹ علاقہ سے چلے گئے
جب لوگوں نے ایک شہری کے قتل کے خلاف احتجاج کیا تو سٹی پولیس اور ریاستی دستے ہجوم کو سنبھالنے کے لیے پہنچے۔ ہفتے کے روز بعد میں وفاقی ایجنٹوں نے علاقہ کو چھوڑ دیا۔ وفاقی ایجنٹوں کے علاقے سے نکل جانے کے بعد صورت حال پر سکون دکھائی دیتی ہے، حالانکہ مظاہرین اس کے بعد گھنٹوں تک سڑکوں پر موجود رہے۔
منیاپولس کے مئیر اور گورنر کا آپریشن بند کرنے کا مطالبہ
والز اور دیگر مقامی اور ریاستی عہدیداروں نے ٹرمپ انتظامیہ کی مقامی امیگریشن انفورسمنٹ کارروائیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
"اس آپریشن کے خاتمے کے لیے مزید کتنے رہائشیوں، کتنے اور امریکیوں کو مرنے یا بری طرح زخمی ہونے کی ضرورت ہے؟” مینیپولیس کے میئر جیکب فری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا۔
اس واقعہ کے بعد صدر ٹرمپ نے مقامی منتخب عہدیداروں پر اپوزیشن کو بھڑکانے کا الزام لگایا۔
ریپبلکن صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا، "میئر اور گورنر اپنے پرجوش، خطرناک اور متکبرانہ بیان بازی سے بغاوت کو ہوا دے رہے ہیں۔”
نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے جمعرات کو منیاپولس کا دورہ کیا تھا، انہوں نے مقامی رہنماؤں پر الزام لگایا کہ وہ امیگریشن ایجنٹوں کو مقامی پولیس کی مدد فراہم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔وینس نے والز کی طرف سے شدید ردعمل کا حوالہ دیا، جنہوں نے کہا کہ امیگریشن کریک ڈاؤن نے مقامی پولیس کے وسائل کو تنگ کر دیا ہے۔
فائرنگ کا یہ واقعہ ایک دن بعد ہوا جب بہت بڑی تعداد میں لوگ کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔

