ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں بھارت کا خوف سامنےآگیا

news 1769353934 4575



news 1769353934 4575

(24نیوز) چور کی داڑھی میں تنکا کے مصداق بھارت کو یہ خوف لاحق ہے کہ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں۔ بھارت کا  یہ خوف انگلینڈ کے میڈیا میں سامنےآگیا۔
 برٹش میڈیا کمیں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق  بھارت کو خوف ہےکہ امریکہ کے صدر  ڈونلڈ ٹرمپ  مسئلہ کشمیر کو  بھی بورڈ  آف پیس میں لاسکتے ہیں۔

 برطانوی میڈیا ک مین شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق  ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیر نو کے لیے  بورڈ آف پیس میں بھارت کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ کئی روز گزرنے کے بعد بھی بھارت نے اس دعوت کا کوئی جواب نہین دیا۔ اب تک یہ واضح نہیں کہ بھارت اس دعوت کو قبول کرےگایا نہیں۔

غزہ بورڈ آف پیس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو قائم کرنا اور غزہ کی تعمیر نو کے دوران عبوری حکومت کی نگرانی  کرنا ہے۔

ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان،ترکیے،سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات نے شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے ۔ اس مجوزہ  بورڈ  کی دستاویز پر  59 ممالک نے دستخط کئے ہیں۔ 

 ڈیووس میں ہونے والی تقریب میں 19 ممالک کی نمائندگی تھی۔ 

برٹش میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیووس کے اجلاس میں بھارت کے وزیراعظم نریندرمودی کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی لیکن وہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کے غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے سے مغربی ایشیا میں استحکام اور امریکہ کے ساتھ بھارت کے  تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ بھارت کو خدشہ یہ ہے کہ کل کو ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ میں لاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے: اہم کام ستائیس جنوری کو دوپہر بارہ بجے سے پہلے نبٹا لیں 

تڈیووس مین بورڈ آف پیس کی تقریب میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ صرف امریکہ  کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اسے دوسری جگہوں پر بھی  پھیلاسکتے ہیں، جیسے ہم نے غزہ میں کامیابی سے کیا۔

برٹش میڈیا کی اس رپورٹ میں بھارت کے ایک سابق سفیر اکبر الدین کا بھی حوالہ دیا گیا اور بتایا گیا کہ سابق سفیر اکبر الدین کے مطابق  بھارت کو بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہونا چاہیے،  اکبر الدین کے الفاظ میں، یہ بورڈ اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 سے متصادم ہوسکتا ہے اور بورڈ میں شامل ہونے سے بھارت بورڈ کے فیصلوں کی توثیق کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

ایسا ہی خدشہ ایک اور سابق بھارتی ڈپلومیٹ نے بھی ظاہر کیا؛ سابق بھارتی سفیر  رنجیت رائےکا کہنا ہےکہ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی کوئی مدت مقرر نہیں، اسے غزہ کے باہر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: منیاپولس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امیگریشن ایجنٹوں نے ایک اور امریکی شہری کو قتل کر دیا 





Source link

متعلقہ پوسٹ