لاہور ہائیکورٹ میں یونان کشتی حادثے کے مرکزی ملزم ثاقب ججا کی عبوری ضمانت کی سماعت کے دوران ایک حیران کن صورتحال سامنے آئی جب مقدمہ کے مدعی نے ملزم کو پہچاننے سے انکار کردیا۔
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مدعیوں نے بیان دیا ہے کہ یہ ان کا ملزم نہیں ہے، لہٰذا عبوری ضمانت کنفرم کی جائے۔ اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مدعیوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک ظالم کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انسانی زندگی کی کوئی قیمت ہے یا نہیں؟ میڈیا شور مچاتا ہے کہ ادارے کام نہیں کرتے، آپ نے خود درخواست دی، اب کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارا ملزم نہیں ہے۔
مقدمہ کے مدعی جمیل نے قرآن پر حلف دینے کی پیشکش کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ قرآن بہت بڑا ہے، ہم اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، ظالم کو بچانے کی کوشش مت کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سادہ لوگ نہیں ہیں، آپ لوگ عدالت میں سچ نہیں بول رہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ملک ایسے ٹھیک نہیں ہوگا، سب کو آگے آنا پڑے گا۔ انہوں نے تمام مدعیوں کو اگلے روز بارہ بجے سپیشل سینٹرل کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیا۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ان کا بچہ اس حادثے میں بچ گیا تھا؟ وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ تین مدعیوں کے بچے یونان حادثے میں بچ گئے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کے بچے بچ گئے تھے۔
عدالت نے حکم دیا کہ مدعیوں کے بیانات کی تصدیق کی جائے، انگوٹھوں کے نشانات کا فرانزک کرایا جائے اور اگر ثابت ہوگیا کہ مدعیوں نے درخواست دی تھی تو پھر جھوٹا بیان دینے پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
بعدازاں عدالت نے ملزم کی عبوری ضمانت میں 12 فروری تک توسیع کردی۔

