تحریر :سکندر علی ناصری (قم)
جمھوری اسلامی ایران اس وقت اقتدار کی عروج پر محکم استوار ہے۔ یہ بات درست ہے کچھ جگہوں پر مظاہرے ہوئے ہیں۔ مظاہرے ہر ملک میں ہوتے ہیں مظاہرہ کرنا عوام کا حق ہے پرامن مظاہرہ کی ہر حکومت اجازت دیتی ہے جمھوری اسلامی ایران میں بھی اس کی جازت یے۔البتہ کوئی بھی حکومت مظاہرے کے نام پر قانون کو ہاتھ میں لینے والوں، ملکی، عوامی، املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو اپنی مان مانی کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ ہر حال میں حکومت کی بالادستی قائم ہونا ضروری ہے اور یہی آئیین اور دستور بھی ہے اس قانون سے ایران بھی مستثنی نہیں۔ اس دستور کے مطابق جنہوں نے پرامن مظاہرے کئے حکومت نے ان سے مذاکرات کئے اور ان کی مشکلات کے حل کے لئے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں۔لیکن کسی بھی ملک کے نظام کو بدلنے کے لئے پڑھے لکھے لوگ، تعليم یافتہ افراد۔سیاسی ماہرین، تاجر برادری، تجربہ کار شخصیات مخلص قیادت کی اشد ضرورت ہوتی ہے یہ لوگوں نظام میں تبدیلی لاتے ہیں۔ اس کے برعکس کچھ اباش لوگ ایرانی نظام کو سرنگوں کرناچاہتے، اباش، غدار، مزدور، جاھل، بےرحم افراد نہ کوئی حکومت سرنگوں کر سکے ہیں نہ جمھوری اسلامی ایران کو سرنگوں کرسکتے ہیں نہ ہی کر سکیں گے یہ بات درست ہے کہ مہنگائی ہے۔ ملکی کرنسی کی قدر گری ہے عوام کو اقتصادی مشکلات ہیں۔عوام کو حکومت اورمسئولین سےگلے شکوے بھی ہیں اس لئے ان تاجروں نے پر امن احتجاج کیا لیکن باہر کے کچھ مزدوروں اور ملک کے غدار افراد نے موقعہ سے غلط استفادہ کیا اور مقدسات کی اہانت کی مساجد کو آگ لگائی قرآن نذر آتش کيا اموال عمومی کو نقصان پہنچایا۔ اور باہر کے کچھ احمق لوگ ان انسان نما داعشی، تکفیری، خوارجی، بےرحم لوگوں کی حمايت کی۔ یادرکھیں! ان کی یہ وحشتگری اور دہشتگردی کبھی کامیاب نہیں ہوگی اس کے چند عوامل ہیں۔
پہلا یہ ہے کہ ایران ایک مستقل ملک ہے جہاں ہر چیز اس کی اپنی ہے معمولی، چھوٹی، چیزوں سے لیکر مزائل اور ماھواروں تک، مقننہ اور مجریہ سے لیکر عدلیہ تک، عوام و خواص سے لیکر ولایت و رھبری تک، سب کے سب اس کے اپنے ہیں۔ اس کا نظام وارداتی نہیں ہے کہ باہر سے امپورٹ کیا ہو یا باہر سے کسی نے ایران میں گھسایا ہو۔ اس پر ثبوت بارہ دن ایران اسرائیل جنگ ہے۔ اسرائیل نے تمام بین الاقوامی قوانین کو روندتے ہوئے بڑے بڑے جرنیلوں کو ایک ہی رات میں شھید کیا لیکن آٹھ گھنٹوں میں ان کے جانشین مقرر ہوئے اور جواب بھی دیا اگر یہی مسئلہ کسی اور ملک کے ساتھ ہوتا تو وہ تکہ پارہ ہوتا۔ دشمن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے۔اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران کا نظام اس کا اپنا ہے۔
دوسرا یہ ہے کہ آج کا ایران چار عشرے قبل والا ایران سے ذیادہ محکم، استوار اور مضبوط ہے جو استکباری غلط پروپگنڈوں، دلفریب نعروں، مذموم سازشوں سے ختم نہیں ہوتا اگر ایک دو شورش، اور کرائے کے کچھ اباش اور اسرائیل اور امریکہ کے کچھ مزدوروں کے نعروں سے ختم ہوتا تو یہ کب سے ختم ہوچکا ہوتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ انقلاب اسلامی کے بعد سے دشمنوں نے مختلف مواقع پر مختلف جذاب شیطانی شعار سے عوام کو نظام کے مقابل میں لانے کی پوری کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوئی کیوں کہ یہاں کے عوام ہوشیار ہیں، دشمن شناس ہیں، یہاں کے بچہ بچہ خوب جانتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے ان کے آباد و أجاد کے ساتھ کیا کیا ہے درحقیقت کوئی لمحہ کوئی سال ایسا نہیں گزرا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ اور ان کے تنخواہ خوروں نے جمہوری اسلامی کے خلاف سازش نہ کی ہوں بہترین سیاسی، علمی، فکری، اقتصادی، سماجی مفکرین، دانشمندوں، ماہر تجربہ کار افراد کی نگرانی میں دشمن دن رات ایک کر کے ایران کے خلاف شیطانی منصوبےتیار کرتے رہے ہیں اور انہوں نے مناسب مواقع پر ان سے استفادہ بھی کیا لیکن ہمیشہ دشمن نامراد رہے ہیں اور ناکام ہوئے ہیں کیونکہ اس کے مقابلہ کرنے کے لئے پہلے سے ہی جمھوری اسلامی ایران تیار ہوتا ہے ۔ وہ بھی اپنی پوری تیاری کے ساتھ ان حالات اور حادثات کو نمٹانے کے لئے ہمیشہ ہر وقت چوکس ہوتا ہے ۔دوسرے ممالک اور ایران میں ایک بڑا فرق یہی ہے کہ ایران جب کسی کے مقابل میں کھڑا ہوتا ہے وہ تھکتا نہیں ایرانی قوم خسته ناپذیر قوم ہے اگر ان کی جگہ پر کوئی اور قوم ہوتی تو يقينا تھک جاتی اور اس کی مثالیں ہمارے پاس بہت ہیں لیکن ایران چار عشروں سے ذیادہ عرصہ گزر گیا پھر بھی ان تمام مشکلات کے باوجود دشمن کے مقابل میں کھڑا ہے۔
تیسرا یہ ہے کہ ایرانی قوم کو اپنی خاک وطن سے بےحد محبت ہے، غیرت ملی ان کے رگوں میں رچی بسی ہے۔ اس کی ایک چھوٹی مثال
وہ پلے کارڈ ہے جسے ایک نوجوان بائیس دی ماہ کو مظاہرین کے درمیان ہاتھ میں اٹھایا ہوا تھا، جس پر فارسی میں لکھا تھا”خاک می خوریم ۔۔۔۔۔۔” یعنی مٹی کھائیں گے لیکن ایک بالش خاک وطن دشمنوں کو ہرگز نہیں دیں گے۔ در حقیقت ایرانی قوم ایک ذندہ، ہوشیار، زیریک، دشمن شناس اور قدرشناس قوم ہے دشمن کی چال اور فریب کو بخوبی درک کرتی ہے اور سمجھتی ہے مناسب مواقع پر منہ ٹور جواب بھی دیتی ہے۔یہی وجہ ہے بائیس دی ماہ کو جب ملکی سطح پر ان اباش، دہشت گردوں ، داعشیوں کے خلاف ولایت فقیه کی کال پر مظاہرے ہوئے، یہ مظاہرے قابل دید تھے۔ اور ان مظاہروں کو دیکھ کر امریکہ اور اسرائیل کی امیدوں پر پانی پھیر گیا ان تمام سازشیں ناکام ہوگی اس دن ایران میں کوئی صوبہ ایسا نہیں تھا جہاں عوام نے ان فتنگروں کے خلاف بڑے مظاہرے نہ کئے ہوں۔ جہاں پر بھی ان ارازل کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں ان میں ملیونوں کے حساب سے عوام نے شرکت کی۔ چھوتھا یہ ہے کہ ایران، اسلامی ممالک میں سے، وہ واحد ملک ہے جہاں عوام خصوصا نوجوانوں اور جوانوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق حکومتی سطح پر مختلف پرو گراموں کے ذریعے سے تربیت دی جاتی ہے اور ملک اور خاک وطن سے دفاع پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ان مختلف پروگراموں میں سے ایک جھلک رجب المرجب کے مہینے میں اعتکاف کا پروگرام ہے۔ہر سال کی طرح اس سال بھی 13 رجب المرجب سے 15رجب المرجب تک پورے ایران میں بارہ ہزار مساجد میں کم از کم پندرہ لاکھ نوجوانوں، جوان، لڑکے لڑکیاں مرد، عورت اعتکاف میں بیٹھے اور اپنے ملک اور ملت کی ترقی اور پیش رفت کے لئے دعائیں مانگی گئیں۔ اعتکاف کے روح پرور مناظر دنیا کو نظر نہیں اتے ہیں۔ اس کے برعکس چند گنے چنے اباش، ارازل، نشایی اور چرسی افراد، ان کو نظر آتے ہیں، جنہیں نشے کی چیزیں کھلا پلا کر میدان میں اتارتے ہیں تا کہ عوام میں خوف و ہراس پھیلائیں اور نظام کو سرنگوں کریں۔ ان کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا کیونکہ جس طرح یہ لوگ عقل و فھم و ادراک سے عاری ہیں ان کے رہنما بھی ایسے ہیں۔

