’ہم آہنگی کی علامتوں کو توڑنا، غربت اور بے روزگاری کے سوالوں کے جواب دینے سے زیادہ آسان ہے‘

Screenshot 2026 01 26 at 4.29.48 PM 1200x600 1


اتراکھنڈ کے مسوری میں 18ویں صدی کے پنجابی صوفی بزرگ، شاعر اور سماجی مصلح بابا بلھے شاہ کے تقریباً 100 سال پرانے مزار میں ہفتے کی رات دیر گئے مبینہ طور پر توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہم آہنگی کی علامتوں کو توڑنا، بڑھتی ہوئی غربت، وسیع پیمانے پر بے روزگاری اور نوجوان نسل کے تاریک مستقبل کے حوالے سے اٹھنے والوں سوالوں کے جواب دینے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔

Screenshot 2026 01 26 at 4.29.48 PM 1200x600 1

مسوری میں بلھے شاہ درگاہ میں توڑ پھوڑ کی ویڈیو کا اسکرین شاٹ

نئی دہلی: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مسوری میں 18ویں صدی کے صوفی شاعر اور فلسفی بابا بلھے شاہ کے مزار پر ہوئی توڑ پھوڑ کی مذمت کی ہے اور بی جے پی لیڈروں پر منافقت کا الزام لگایا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ، اتراکھنڈ کے مسوری میں 18ویں صدی کے پنجابی صوفی بزرگ، شاعر اور سماجی مصلح بابا بلھے شاہ کے تقریباً 100 سال پرانے مزار میں ہفتے کی رات دیر گئے (24 جنوری)  مبینہ طور پر توڑ پھوڑ کی گئی۔ واقعہ کے سلسلے میں تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق، حملے میں پاس  کی دو اورمزارات کو مکمل طور پر نقصان پہنچا اور ان کےعطیات کے بکس بھی توڑ دیے گئے۔ اس معاملے میں 25 سے 30 نامعلوم افراد کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔

محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا،’بی جے پی لیڈر بیرون ملک مساجد میں پوز دیتے ہیں اور مشرق وسطیٰ کے شیخوں کے لیے سرخ قالین بچھاتے ہیں، لیکن اپنے ملک  میں وہ صوفی شاعر بابا بلھے شاہ کے مزار میں توڑ پھوڑ ہوتے ہوئے خوشی خوشی دیکھتے ہیں۔ یہ منافقت اتفاق نہیں، بلکہ جان بوجھ کر کی گئی ہے۔’

انہوں نے مزید کہا کہ ہم آہنگی کی علامتوں کوتوڑنا، بڑھتی ہوئی غربت، بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور نوجوان نسل کے تاریک مستقبل پر اٹھنے والے سوالوں کے جواب دینے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔

اس معاملے میں ہتھوڑوں اور لوہے کی راڈ سے درگاہ کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ہری اوم، شیوایون اور شردھا نامی تین لوگوں کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ، مسوری میں وینبرگ ایلن اسکول کے کیمپس میں واقع اس درگاہ کو ہتھوڑوں اور لوہے کی راڈ سے نشانہ بنایا گیا۔ ڈھانچے کے اندر رکھے مذہبی صحیفوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

ملزمان پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی خلاف ورزی، عوامی امن کو خراب کرنے اور مذہبی عقیدے کی توہین کرنے کے ارادے سے عبادت گاہ کی بے حرمتی کرنے سے متعلق بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور کیس کی تفتیش جاری ہے۔

واقعہ کے فوراً بعد بابا بلھے شاہ کمیٹی کے ارکان جائے وقوعہ پر پہنچے اور اسے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔ کمیٹی کے صدر رجت اگروال نے کہا،’یہ واقعہ صرف ایک مذہبی مقام کو نقصان پہنچانے کا نہیں ہے بلکہ مسوری کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی سازش ہے۔’

انہوں نے کہا، ‘درگاہ ایک پرائیویٹ اسکول کی زمین پر واقع ہے، اور اسکول انتظامیہ نے برسوں پہلے اس کی تعمیر کی اجازت دی تھی۔ انتظامی تحقیقات سے پہلے ہی یہ طے ہوچکا ہے کہ وہاں کوئی تجاوزات نہیں ہیں۔’

بلھے شاہ کو بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ای ٹی وی بھارت کی رپورٹ کے مطابق، اس سے پہلےکچھ دائیں بازو کی تنظیموں نے مسوری میں درگاہ کی توسیع کی مخالفت کی تھی اور اسے سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیر قرار دیا تھا، حالانکہ درگاہ کمیٹی نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

سابق میونسپل چیئرمین منموہن سنگھ نے توڑ پھوڑ کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسوری طویل عرصے سے بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے واقعات سے شہر کا امیج خراب ہوتا ہے اور انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ مجرموں کی نشاندہی کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت کارروائی کرے۔

بابا بلھے شاہ کے پیروکاروں نے اس فعل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس درگاہ نے ہمیشہ محبت، انسانیت اور بھائی چارے کا پیغام دیا ہے اور یہاں مختلف مذاہب کے لوگ عقیدت کے ساتھ آتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ملزمان کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو احتجاج کریں گے۔

دریں اثنا، ہندو رکشا دل کی سربراہ پنکی چودھری نے ہفتہ کو درگاہ کی توڑ پھوڑ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس میں اتراکھنڈ یونٹ کی ‘تعریف’ کی گئی ہے۔ انہوں نے لکھا، ’ آج میری ہندو رکشا دل کی ٹیم نے بلھے شاہ کو، جو 70 سال سے دیو بھومی میں تھے، واپس پاکستان بھیج دیا۔‘

بتادیں کہ پاکستان کے قصور میں واقع بابا بلھے شاہ کی درگاہ پربھی  دنیا بھر سے عقیدت مند پہنچتے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ