(ویب ڈیسک) ایک غیر معمولی پیش رفت میں یورپی یونین نے ایران کے پاسداران انقلاب کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے دیا۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نےآج اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایران کے "پاسدارانِ انقلاب” کو دہشت گرد تنظیوں کی فہرست میں شامل کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔
یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار خاتون کاجا کالس نے کہا، "جبر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،” انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کا یہ اقدام IRGC کو القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ گروپ جیسے جہادی گروپوں کی سطح پر کھڑا کر دے گا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کاجا کالس نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر بیان میں کہا کہ "کوئی بھی حکومت جو اپنے ہی ہزاروں لوگوں کو مارتی ہے وہ اپنے ہی خاتمے کے لئے کام کر رہی ہے۔”
کالس نے کہا کہ وہ توقع کرتی ہیں کہ ایران کے ساتھ سفارتی راستے کھلے رہیں گے، یہاں تک کہ IRGC کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث گروپوں کی فہرست میں شامل کرنے کے بعد بھی سفارتی تعلقات برقرار رہیں گے۔
یورپی یونین نے ایران میں چھ اداروں اور 15 افراد پر بھی نئی پابندیاں عائد کی ہیں جن میں اس کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی، پراسیکیوٹر جنرل محمد موحیدی آزاد اور ایک صدارتی جج ایمان افشاری شامل ہیں۔
بی بی سی نےیورپی یونین کےاس فیصلے کے متعلق رپورٹ میں کہا ہے کہ انسانی حقوق کے گروپوں کا تخمینہ ہے کہ دسمبر اور جنوری میں ہونے والی بدامنی کے ہفتوں کے دوران ہزاروں مظاہرین، بشمول آئی آر جی سی کے اہلکاروں کے ہاتھوں مارے گئے۔
یہ بھی پڑھیئے: سانحہ بھاٹی چوک، چیف منسٹر نے دو افسر نوکری سے نکال دیئے،گرفتاری کا حکم، کئی عہدوں سے محروم
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ یورپی یونین کا یہ فیصلہ ایک ’’اسٹنٹ‘‘ اور ایک ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے یورپی یونین کے اس فیصلے کو ’غیر منطقی، غیر ذمہ دارانہ اور بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیا ہے۔
تہران میں پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام ’امریکہ اور صہیونی حکومت کی بالادست اور غیر انسانی پالیسیوں کی اندھی تقلید‘ کے تحت کیا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کئی دہائیوں سے ایران میں ایک بڑی فوجی، اقتصادی اور سیاسی قوت کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: فائیو جی انٹرنیٹ کی سہولیات کا انتظار اب ختم، نیلامی کی تاریخ سامنے آگئی
پاسداران انقلاب ایران کی مسلح افواج سے الگ ایک متوازی سرکاری مسلح فوج ہیں جو خاص امور کی انجام دہی کے لئے کام کرتے ہیں اور براہِ راست سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جواب دہ ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ یہ تنظیم باقاعدہ فوج کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔
پاسداران انقلاب ایران کے دفاع کے ساتھ بیرونی آپریشنز اور خطے میں ایرانی حکومت کے اثر و رسوخ میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار فعال (اور ریزرو سمیت 6 لاکھ سے زائد) اہلکاروں پر مشتمل یہ فورس ایران کے بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگراموں کی بھی نگرانی کرتی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں مختلف اتحادی گروہوں کی حمایت کرتی ہے۔
امریکہ نے 2019 میں پاسداران انقلاب کو غیر ملکی ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا تھا۔ یورپی یونین نے اب یہ اقدام اٹھایا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: پاک آسٹریلیا ٹی ٹوینٹی سیریز کا پہلا میچ، پاکستان نے 22 رنز سے جیت لیا


