ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم کو کیسی پچز پر تیاری کروائی گئی؟

392295 499364529


پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے پچ بنانے والے شعبے نے دعوی کیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹی 20کرکٹ ورلڈ کپ جیت کر لائے گی، کیونکہ ٹیم کی پریکٹس سری لنکن پچوں کے معیار پر تیار کی گئی پچز پر کرائی گئی ہے۔

 ٹیم کے کھلاڑیوں کو سری لنکا کی پچوں سے مطابقت رکھنے والی سوینگ اور باولنگ کے موثر پچ پر پریکٹس کرائی گئی ہے اور اسی سبب پاکستان کی ٹیم نے آسٹریلیاں کے خلاف حالیہ سیریز میں کامیابی حاصل کی۔

ماہرین کے مطابق پچ نہ صرف کھیل کے انداز کا تعین کرتی ہے بلکہ میچ کی جیت اور ہار کا فیصلے پر بھی اثرانداز ہوتی ہے، اسی لیے پچ تیار کرنے والے شعبے کو ہر ملک کے کرکٹ بورڈ میں خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

پی سی بی کے پچیں تیار کرنےو الے شعبے کے ڈپٹی چیف کیوریٹر عثمان ارشد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایل سی سی اے گرؤانڈ کی پچ ہے جس پر پاکستانی کرکٹ ٹیم نے پریکٹس کی اور آسٹریلیا کی ٹیم کو سیریز میں شکست دے کر بہترین کارکردگی ثابت کر دی۔ ہم نے یہ پچز سری لنکن پچز کو مد نظر رکھتے ہوئے تیار کی ہیں تاکہ ٹی 20ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم بہترین کارکردگی دکھا سکے۔‘

عثمان کے بقول ’ملک میں پچوں کی تیاری (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) آئی سی سی کے معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہے۔ اس میں مٹی کا خاص تناسب، پچ کی سختی اور ہمواری، گھاس کی مقدار باؤنڈری، آؤٹ فیلڈ کی نمی اور موسمی درجہ حرارت کے اثر کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں زیادہ تر پچیں مقامی مٹی سے تیار کی جاتی ہیں۔

خاص طور پر لاہور، کراچی اور راولپنڈی کی پچز اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں۔ بیٹنگ فرینڈلی پچ جہاں بلے بازوں کو زیادہ مدد ملتی ہے اور بڑے اسکور بنتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

باؤلنگ فرینڈلی پچ اسے کہتے ہیں جہاں فاسٹ بولرز یا اسپنرز کو سوئنگ اور ٹرن ملتا ہے۔ بیلنسڈ پچ جو عالمی کرکٹ میں سب سے زیادہ پسند کی جاتی ہے جہاں بیٹر اور بولر دونوں کو یکساں مواقع ملتے ہیں۔

’پچ میچ کے نتائج پر 40  سے 50 فیصد تک اثر ڈال سکتی ہے۔ ٹاس جیتنے والی ٹیم اکثر پچ کو دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے کہ پہلے بیٹنگ کرنی ہے یا باؤلنگ کیونکہ خشک پچ بعد میں سپنرز کے لیے مددگار بن جاتی ہے سبز پچ پر فاسٹ بولرز حاوی رہتے ہیں، فلیٹ پچ پر رنز کا سیلاب آ جاتا ہے‘

کرکٹ ماہرین کہنا ہے کہ ہر ملک اپنی ٹیم کو بولنگ اور بیٹنگ کے لحاظ سے ہی پچ تیا کرتا ہے۔ بقول عثمان ہم پہلے صرف بیٹنگ پچز ہی تیار کرتے تھے لیکن کچھ عرصے سے پی سی بی حکام نے فیصلہ کیا کہ باؤلنگ پچز بنائی جائیں تاکہ ہمارا پر باؤلنگ انحصار زیادہ ہو اور بیٹنگ کے ساتھ بولرز کی کارکردگی میں اضافہ ہوسکے۔ ’لہذا اب ہم زیادہ تر غیر ملکی ٹیموں کی آمد پر باؤلنگ پچیں بناتے ہیں۔ سری لنکا میں بھی پچیں زیادہ تر خشک گھاس والی یعنی بولنگ میں سونگ کی مدد کرنے والی پچز ہیں۔‘

ڈپٹی چیف کیوریٹر کہتے ہیں ’ہم نے جو وکٹیں تیار کی ہیں ان کی تیاری میں پہلے کھدائی کر کے پتھر ڈالا جاتا ہے پھر اس کو دبایا جاتا ہے۔ اس کی لیر پر سخت مٹی ڈالی جاتی ہے اسے سکھا کر اس پر رولر پھیرتے رہتے ہیں۔ سب سے او پر سخت مٹی میں گھاس لگائی جاتی ہے پھر گھاس کو سکھا کر دبایا جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ  جتنا زیادہ پچ پر دباو ڈالا جائے گا وہ اتنی سخت ہوگی اور باؤلنگ کو سپورٹ کرے گی۔ ’اگر پچ پر رولر کم پھیرا جائے تو سختی کم ہوگا اس کا فائدہ بیٹس مینوں کو ہوتا ہے۔

’کچھ سالوں سے آئی سی سی کی ہدایت پر پچز پر بننے والی کریز کی لائنیں رنگین کی جانے لگی ہیں۔ ہم زیادہ تر نیلی یا سرخ کرتے ہیں تاہم رنگوں کے استعمال میں کیوریٹر کی مرضی کو ترجیح دی جاتی ہے۔‘

ماہرین کے مطابق جدید کرکٹ میں صرف کھلاڑیوں کی مہارت ہی نہیں بلکہ پچ کی تیاری بھی ایک ’خاموش کھلاڑی‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ