بعض ہمسایہ ممالک اپنی سرزمین سے دہشت گرد عناصر کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی اجازت دے کر جرائم میں شراکت دار بن گئے ہیں
کچھ ممالک براہ راست مالی معاونت کے ساتھ دہشت گردوں کو تکنیکی اور عسکری ذرائع بھی فراہم کرتے ہیں
اسلام آباد — 8 فروری 2026
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایک بیان میں شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے افغانستان میں ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو 11 ستمبر 2001 (نائن الیون) سے پہلے کے دور سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ صورتحال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے یہ موقف رکھتا آیا ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کوئی ایک ملک تنہا نہیں کر سکتا، بلکہ یہ مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض ہمسایہ ممالک اپنی سرزمین سے دہشت گرد عناصر کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی اجازت دے کر جرائم میں شراکت دار بن گئے ہیں۔ مزید برآں، کچھ ممالک ان دہشت گرد گروہوں کو براہ راست مالی معاونت کے علاوہ تکنیکی اور عسکری ذرائع بھی فراہم کر رہے ہیں۔
بیان میں پاکستان کے مشرقی ہمسایہ ملک کا حوالہ دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ وہ طالبان رجیم کی پشت پناہی کر رہا ہے، جو خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔ یہ بیان حالیہ دنوں میں پاکستان میں پیش آنے والے دہشت گردانہ واقعات، بالخصوص اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں مسجد اور امام بارگاہ پر خودکش دھماکے کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے تھے۔
صدر زرداری نے عالمی برادری، رہنماؤں اور ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے خلاف اجتماعی عزم اور تعاون پر زور دیا۔

