کوئٹہ/اسلام آباد، 8 فروری 2026 — بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے صدر سردار اختر جان مینگل نے پاکستان کے انصاف کے نظام میں دوہرے معیار پر شدید تنقید کی ہے اور انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری حاضر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں 17، 17 سال قید کی سزا کو نشانہ بنایا۔
سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کیے جانے والے بیان میں مینگل نے کہا: “ایک ٹویٹ پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سترہ سال قید کی سزا ہوئی، جبکہ ملک کو لوٹنے اور توڑنے والوں کو آج تک ایک دن کی سزا بھی نہیں ملی۔” انہوں نے اسے پورے انصاف کے نظام پر بڑا سوالیہ نشان قرار دیا۔
سردار اختر مینگل نے بلوچ رہنما مہرنگ بلوچ کے اسلام آباد دورے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ سردی کے موسم میں ان کی میزبانی ٹھنڈا پانی پھینک کر کی گئی — جو انتہائی افسوسناک اور غیر انسانی عمل تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بلوچستان میں ہونے والی زیادتیوں پر احتجاج کا حق بھی عوام سے چھینا جا رہا ہے اور مظلوموں کی آواز دبانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مینگل کا کہنا تھا کہ “جب ریاست خود ناانصافی کو فروغ دے تو عوام کا نظام انصاف سے اعتماد اٹھ جاتا ہے، اور یہی رویہ مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔”
کیس کا پس منظر
24 جنوری 2026 کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی مختلف دفعات — سیکشن 9 (جرم کی تمجید)، سیکشن 10 (سائبر دہشت گردی) اور سیکشن 26-اے (جھوٹی یا غلط معلومات) — کے تحت مجموعی طور پر 17، 17 سال قید بامشقت اور تقریباً 3 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ مقدمہ 2021 سے 2025 تک کی ٹویٹس اور ری ٹویٹس پر مبنی تھا جن میں مبینہ طور پر ریاستی اداروں کے خلاف مواد اور کالعدم تنظیموں کے ایجنڈے کی ترویج کا الزام تھا۔
دونوں نے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کر دی ہیں اور سزاؤں کی معطلی کی درخواست کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین سمیت بین الاقوامی اداروں نے اس کیس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے اختلاف رائے دبانے کے لیے سائبر قوانین کے غلط استعمال سے تعبیر کیا ہے۔
سردار اختر مینگل کا بیان بلوچ قوم پرست اور حقوق کارکن حلقوں کی جانب سے جاری تنقید کی عکاسی کرتا ہے جو اسے بلوچستان میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آواز دبانے کی تازہ مثال قرار دیتے ہیں۔

