بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم اور ملک کی پہلی خاتون حکومت سربراہ خالدہ ضیا کو بدھ کے روز سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ان کی آخری رسومات میں عوام کا جمِ غفیر شریک ہوا، جنہوں نے دہائیوں تک ملکی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑنے والی رہنما کو اشکبار آنکھوں سے الوداع کہا۔
خالدہ ضیا منگل کے روز 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔ وہ جنوبی ایشیا کے 17 کروڑ آبادی والے ملک بنگلہ دیش کی سیاست کی ایک قد آور شخصیت سمجھی جاتی تھیں۔
دارالحکومت ڈھاکہ میں قومی پرچم سرنگوں رہا جبکہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ ہزاروں سیکیورٹی اہلکار سڑکوں پر تعینات تھے۔ خالدہ ضیا کے جسدِ خاکی کو قومی پرچم کے رنگوں سے سجی گاڑی میں شہر کی اہم شاہراہوں سے گزارا گیا۔
ریاستی جنازے میں سیاسی قائدین، سرکاری شخصیات، غیر ملکی سفارت کاروں اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ فضا سوگوار تھی اور ہر طرف خالدہ ضیا کی سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا تھا۔
خالدہ ضیا کا شمار بنگلہ دیش کی تاریخ کی مؤثر ترین سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے، جن کی قیادت اور سیاسی جدوجہد نے ملک کی سیاست کو طویل عرصے تک شکل دی۔


