امریکا میں مقدمہ جو مستقبل میں ان کے طریقہ کار کو بدل سکتا ہے
امریکا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف ایک انتہائی اہم اور تاریخی مقدمہ جاری ہے جو ممکنہ طور پر ان پلیٹ فارمز کے ڈیزائن، الگورتھم اور کاروباری ماڈل کو مستقل طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔
مقدمے کی بنیادی تفصیلات:
مقدمہ دائر کرنے والے: متعدد امریکی ریاستوں کے اٹارنی جنرلز (بشمول 33 سے زائد ریاستوں) نے مشترکہ طور پر مقدمہ دائر کیا ہے۔
مدعا علیہان (بڑی کمپنیاں):
– Meta (فیس بک، انسٹاگرام)
– TikTok (ByteDance)
– Snap (Snapchat)
– Google (YouTube)
– دیگر پلیٹ فارمز
بنیادی الزام:
سوشل میڈیا کمپنیوں نے قصداً اور جان بوجھ کر اپنے پلیٹ فارمز کو نشہ آور (addictive) بنایا تاکہ صارفین زیادہ سے زیادہ وقت ایپ پر گزاریں، جس سے اشتہارات کی آمدنی بڑھے۔
الزامات کی اہم باتیں:
الگورتھم کو جان بوجھ کر اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ وہ صارفین کو endless scrolling اور dopamine loops میں پھنسائے رکھے
بچوں اور نوعمروں پر خاص توجہ دی گئی کیونکہ وہ زیادہ حساس اور نشہ آور رویے کا شکار ہوتے ہیں
کمپنیوں کو معلوم تھا کہ یہ رویہ ذہنی صحت (mental health)، نیند، توجہ، خود اعتمادی اور خودکشی کے خیالات پر منفی اثرات ڈالتا ہے
اندرونی دستاویزات اور تحقیق کو چھپایا گیا جو ان خطرات کو ظاہر کرتی تھی
عدالتی صورتحال (تازہ ترین):
کئی ریاستوں کے مقدمات کو وفاقی عدالتوں میں یکجا کر دیا گیا ہے
سب سے اہم سماعت کیلیفورنیا شمالی ضلع وفاقی عدالت میں ہو رہی ہے
کمپنیوں نے Section 230 (امریکا کا انٹرنیٹ تحفظ کا قانون) کی آڑ میں مقدمہ خارج کرنے کی کوشش کی، مگر عدالت نے زیادہ تر کیسز کو آگے بڑھنے کی اجازت دے دی ہے
مقدمہ اب دوسری مرحلے (discovery phase) میں ہے جہاں کمپنیوں کو اپنی اندرونی دستاویزات، الگورتھم کی تفصیلات اور تحقیق پیش کرنی ہوگی
ممکنہ نتائج (اگر ریاستوں کو کامیابی ملی تو):
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عمر کی تصدیق (age verification) لازمی
بچوں کے لیے خاص طور پر نشہ آور فیچرز پر پابندی
الگورتھم میں بچوں کی حفاظت کو ترجیح دینے کا قانون
بھاری جرمانے (اربوں ڈالر)
اشتہاری ماڈل اور انفینٹ اسکرول جیسے فیچرز پر بنیادی تبدیلیاں
ممکنہ طور پر یو ایس میں ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر مزید پابندیاں
یہ مقدمہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے ریگولیشن کے لیے ایک ٹیسٹ کیس سمجھا جا رہا ہے۔ اگر امریکی ریاستوں کو کامیابی ملتی ہے تو یورپ، برطانیہ، آسٹریلیا، بھارت اور دیگر ممالک میں بھی اسی نوعیت کے قوانین بننے کا امکان بہت زیادہ ہے۔
یہ پہلا موقع ہے جب سوشل میڈیا کمپنیوں کے بنیادی کاروباری ماڈل اور الگورتھم ڈیزائن کو براہ راست عدالت کے سامنے چیلنج کیا جا رہا ہے۔

