اسلام آباد (نمائندہ خصوصی): اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز (GRFC) 2026 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان 2025 میں دنیا کے 10 سب سے بڑے غذائی بحران والے ممالک میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ (11 ملین) افراد شدید غذائی عدم تحفظ (acute food insecurity) کا شکار ہیں۔
ان میں سے 93 لاکھ افراد "کرائسز” (IPC Phase 3) کی صورتحال میں ہیں جبکہ 17 لاکھ افراد "ایمرجنسی” (IPC Phase 4) کی انتہائی خطرناک صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، جو قحط (famine) سے صرف ایک قدم پیچھے سمجھی جاتی ہے۔fe3f8b
رپورٹ میں پاکستان کو افغانستان، بنگلہ دیش، ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو، میانمار، نائجیریا، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام اور یمن کے ساتھ ان 10 ممالک میں شمار کیا گیا ہے جن میں عالمی شدید بھوک کا دو تہائی حصہ مرتکز ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی معاشی مشکلات، مسلسل مہنگائی، شدید موسمیاتی تبدیلیاں (مون سون سیلاب اور خشک سالی) اور معاشی دباؤ غذائی بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں عالمی سطح پر 47 ممالک/علاقوں میں 26 کروڑ 60 لاکھ افراد نے شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کیا، جو پچھلے سالوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
حکومت اور بین الاقوامی امدادی اداروں کو فوری طور پر غذائی امداد، زرعی بحالی اور معاشی استحکام کے اقدامات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ بحران مزید نہ بڑھے۔

