بنگلادیش انتخابات: کوملا-4 (دیبیڈوار) میں این سی پی کے چیف آرگنائزر حسنات عبداللہ غیر سرکاری طور پر آگے، بڑی برتری حاصل

IMG 20260212 WA2528


ڈھاکہ — بنگلادیش کی 13ویں پارلیمانی انتخابات (جاتیہ سنسد) کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق، کوملا-4 (دیبیڈوار) حلقہ سے نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے چیف آرگنائزر (جنوبی علاقہ) اور 11 جماعتی اتحاد کے امیدوار حسنات عبداللہ ووٹوں کی گنتی میں نمایاں برتری حاصل کر رہے ہیں۔
ابتدائی طور پر چار پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں حسنات عبداللہ آگے تھے۔ ان کے آبائی پولنگ اسٹیشن گوپال نگر میں انہیں 3,084 ووٹ ملے، جبکہ ان کے حریف، بی این پی کی حمایت یافتہ امیدوار محمد اے جسیم الدین (ٹرک علامت، گنو ادھکار پریشد) کو وہاں صفر ووٹ ملے۔ میونسپل سینٹر وارڈ 7 میں حسنات کو 1,383 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ جسیم الدین صرف 480 ووٹ لے سکے۔
مزید اپ ڈیٹس کے مطابق، چار پولنگ سینٹرز (گوپال نگر، نبی پور، مہیش پور اور میونسپل) کے مجموعی نتائج میں حسنات عبداللہ کو 7,892 ووٹ ملے، جبکہ جسیم الدین کو 818 ووٹ۔
جسیم الدین نے ووٹنگ کے آخری اوقات میں انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا اور وسیع پیمانے پر دھاندلی، ووٹ چوری اور دھمکیوں کا الزام لگایا۔
حسنات عبداللہ (شاپلا کلی علامت) نے ابتدائی نتائج میں متعدد سینٹرز میں تین گنا سے زائد ووٹوں کی برتری حاصل کی۔ تازہ ترین غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق، 116 پولنگ سینٹرز میں سے مکمل یا جزوی نتائج میں حسنات عبداللہ کو تقریباً 1,72,000 ووٹ مل چکے ہیں، جو انہیں بڑی برتری دیتے ہیں اور این سی پی کے لیے پہلی بڑی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
یہ انتخابات 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلے بڑے انتخابات ہیں، جہاں بی این پی، جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتی اتحاد اور دیگر جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔ ووٹنگ 7:30 صبح سے 4:30 شام تک جاری رہی، اور نتائج کا حتمی اعلان الیکشن کمیشن کی جانب سے کل (13 فروری) متوقع ہے۔

متعلقہ پوسٹ