نوجوان نسل کے صحت مند مستقبل کے لیے فوری پالیسی اقدامات ناگزیر: ذوالفقار علی بھٹی

IMG 20260213 WA1809


اسلام آباد، پاکستان
اسلام آباد — پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (PANAH) کے وفد نے پارلیمانی سیکریٹری برائے تجارت ذوالفقار علی بھٹی سے ملاقات کی اور غیر متعدی امراض (NCDs) کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر فوری پالیسی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ وفد میں جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن، نائب صدر غلام عباس اور سابق کمشنر ایف بی آر عبدالحفیظ شامل تھے۔
ملاقات کے دوران وفد نے تفصیلی بریفنگ دی کہ پاکستان میں دل کے امراض، ذیابیطس، کینسر اور سانس کی بیماریوں میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور اس میں تمباکو نوشی اور غیر صحت بخش غذائیں بڑی وجوہات ہیں۔ وفد نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ نہ صرف صحت عامہ بلکہ قومی معیشت کے لیے بھی بھاری بوجھ بن چکا ہے، جس سے صحت کے اخراجات اور پیداواری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے چینی اور گھی کو سبسڈی کے تحت لازمی اشیاء کی فہرست سے خارج کیا جائے تاکہ غیر صحت بخش غذاؤں کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔ اس کے علاوہ شیشہ، ای سگریٹ اور دیگر نئی تمباکو مصنوعات پر پابندی عائد کرنے کی بھی سفارش کی گئی تاکہ نوجوان نسل کو ان مضر صحت رجحانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
پارلیمانی سیکریٹری ذوالفقار علی بھٹی نے وفد کی تجاویز کو غور سے سنا اور عوامی صحت کے فروغ کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور ان کے صحت مند مستقبل کے لیے حکومت کو فوری اور مؤثر پالیسی اقدامات اٹھانا ناگزیر ہیں۔
وفد نے امید کا اظہار کیا کہ حکومت دیرپا اور مؤثر اقدامات کے ذریعے غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر قابو پائے گی، اور ایک صحت مند، توانا اور روشن پاکستان کی بنیاد رکھی جائے گی۔

متعلقہ پوسٹ