کراچی، 8 فروری 2026 — کراچی میں پولیس نے اتوار کے روز الیکشن کمیشن سندھ آفس کے باہر جماعت اسلامی کی عوامی پریس کانفرنس روکتے ہوئے پارٹی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنان کو مختصر مدت کے لیے حراست میں لے لیا۔
یہ پریس کانفرنس 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر بلائی گئی تھی، جن انتخابات میں جماعت اسلامی مسلسل دھاندلی اور نتائج میں مبینہ خرد برد کے الزامات لگاتی رہی ہے، خصوصاً کراچی کے شہری حلقوں میں۔
حراست میں لیے جانے والوں میں شامل تھے:
رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق (بعض رپورٹس میں فاروق فرحان بھی کہا گیا)
جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر مسلم پرویز
جماعت کے ذرائع کے مطابق پولیس نے ای سی پی آفس کے قریب لگائی گئی عارضی ٹینٹ/کیمپ کو ہٹا دیا اور متعدد کارکنان کو سیکیورٹی خدشات اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں تحویل میں لے لیا۔
جماعت اسلامی نے اس کارروائی کو پرامن جمہوری اظہار رائے کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔ کراچی امیر منعم ظفر خان نے اسے پیپلز پارٹی کی جانب سے “سیاسی فسطائیت” کا مظہر قرار دیا اور کہا کہ جماعت انتخابی دھاندلی اور کراچی کے مسائل اجاگر کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
رہائی کے بعد ایم پی اے محمد فاروق سمیت رہنماؤں نے کہا کہ وہ آئینی اور قانونی حق کے تحت میڈیا سے گفتگو کرنے آئے تھے۔ حراست میں لیے گئے بیشتر افراد چند گھنٹوں بعد رہا کر دیے گئے۔
جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ یہ گرفتاریاں 14 فروری 2026 کو سندھ اسمبلی کے باہر اعلان کردہ دھرنے کو ناکام بنانے کی منظم کوشش کا حصہ ہیں۔ پارٹی نے سوشل میڈیا پر #14Feb_Dharna_toHoga کے نعرے کے ساتھ دھرنا دینے کا عزم دہرایا ہے۔
جماعت مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ کراچی کے کئی حلقوں میں دوبارہ انتخابات ہوں، دھاندلی کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور شہر کو بااختیار بلدیاتی نظام دیا جائے۔
کراچی پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، البتہ ایک سینئر پولیس افسر کے حوالے سے کہا گیا کہ کوئی رسمی گرفتاری نہیں کی گئی اور کارکنان کو تھانوں میں طویل حراست میں نہیں رکھا گیا۔
یہ واقعہ 2024 کے انتخابات اور کراچی کے شہری مسائل سے جڑی سیاسی کشیدگی کی تازہ ترین مثال ہے۔

