روس اور ایران کے درمیان خفیہ اسلحہ معاہدہ — 2,500 میزائل اور 500 پورٹ ایبل لانچ یونٹ فراہم کیے جائیں گے، فنانشل ٹائمز کا انکشاف

IMG 20260223 WA1334


لندن / ماسکو،
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے روسی خفیہ دستاویزات اور معاہدے سے آگاہ متعدد ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ روس اور ایران نے تقریباً 50 کروڑ یورو (59 کروڑ امریکی ڈالر) مالیت کا ایک خفیہ اسلحہ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ماسکو تہران کو ہزاروں جدید ترین میزائل اور پورٹ ایبل لانچ یونٹ فراہم کرے گا۔
یہ معاہدہ دسمبر 2025 میں ماسکو میں دستخط کیا گیا، جس کے تحت روس تین سال کے دوران ایران کو "ویربا” نامی 500 پورٹ ایبل لانچ یونٹ اور 2,500 "9M336” میزائل فراہم کرے گا۔   یہ ہتھیار 2027 سے 2029 کے درمیان تین مرحلوں میں ایران کو موصول ہوں گے۔ 
"ویربا” کو روس کا جدید ترین شانے سے داغا جانے والا اینفراریڈ گائیڈڈ فضائی دفاعی نظام قرار دیا جاتا ہے جو کروز میزائلوں، کم اونچائی پر اڑنے والے طیاروں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چھوٹی موبائل ٹیموں کے ذریعے آپریٹ کیا جانے والا یہ نظام ریڈار تنصیبات کے بغیر پھیلی ہوئی دفاعی صف بندی ممکن بناتا ہے۔ 
معاہدے کی بات چیت روسی سرکاری اسلحہ برآمد کنندہ ادارے "روسوبورون ایکسپورٹ” اور ایران کی وزارت دفاع کے ماسکو میں تعینات نمائندے کے درمیان ہوئی۔ دستاویزات کے مطابق ہر میزائل کی قیمت ایک لاکھ 70 ہزار یورو اور ہر لانچ یونٹ کی قیمت 40 ہزار یورو مقرر کی گئی ہے۔ 
ایران نے یہ میزائل سسٹم جولائی 2025 میں باقاعدہ طلب کیے تھے، جب جون 2025 میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں اس کا فضائی دفاعی نظام تباہ ہو گیا تھا۔  اس کے علاوہ ایران نے جنوری 2026 میں روس سے کم از کم 6 Mi-28E اٹیک ہیلی کاپٹر بھی حاصل کیے ہیں، اور روسی Su-35S لڑاکا طیاروں کی دو سکواڈرن خریدنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔ 
ماہرین کا کہنا ہے کہ "ویربا” نظام ایران کی امریکہ یا اسرائیل کے بڑے فضائی حملوں کو روکنے کی صلاحیت میں بنیادی تبدیلی تو نہیں لائے گا، لیکن ہیلی کاپٹروں اور کم اونچائی پر پرواز کرنے والے طیاروں کے استعمال کو مزید پیچیدہ ضرور بنا دے گا۔ 
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جوہری مذاکرات جاری ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دہرا رکھی ہیں۔ 

متعلقہ پوسٹ