لاس اینجلس،
سوشل میڈیا کمپنی میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ بدھ کے روز لاس اینجلس کی عدالت عالیہ میں جیوری کے سامنے پیش ہوئے، جہاں ان سے بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے سخت سوال و جواب کیے گئے۔ یہ پہلا موقع ہے جب زکربرگ کسی جیوری کے سامنے بچوں کی حفاظت کے معاملے پر گواہی دے رہے ہیں۔
مقدمے کی مدعی "کیلے” نامی ۲۰ سالہ خاتون ہیں، جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے محض ۶ سال کی عمر میں یوٹیوب اور ۹ سال کی عمر میں انسٹاگرام استعمال کرنا شروع کیا۔ ان کا الزام ہے کہ سوشل میڈیا کے نشے نے ان کی ذہنی صحت تباہ کی، جس سے ڈپریشن، باڈی امیج کے مسائل اور خودکشی کے خیالات جنم لیے۔ وکلاء نے انسٹاگرام کو "ڈیجیٹل کیسینو” قرار دیا۔
عدالت میں پیش کی گئی ایک اندرونی دستاویز سے انکشاف ہوا کہ میٹا کو علم تھا کہ ۱۱ سال کے بچے بڑوں کی نسبت چار گنا زیادہ اس کی ایپس پر واپس آتے ہیں۔ زکربرگ نے تسلیم کیا کہ بہت سے صارفین غلط عمر بتا کر انسٹاگرام پر اکاؤنٹ بناتے ہیں اور اسے روکنا "بہت مشکل” ہے۔
یہ مقدمہ ۱,۶۰۰ سے زائد شکایت کنندگان پر مشتمل کیسز کا نمائندہ مقدمہ ہے، جن میں ۳۵۰ سے زیادہ خاندان اور ۲۵۰ سے زیادہ اسکول ڈسٹرکٹس شامل ہیں۔ ماہرین قانون اس مقدمے کو ۱۹۹۰ کی دہائی کے تمباکو کمپنیوں کے مقدمات سے تشبیہ دے رہے ہیں۔
میٹا نے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ "ثبوت ظاہر کریں گے کہ ہم نوجوانوں کی بھلائی کے لیے پرعزم ہیں۔”

