"ایران کا جواب ہماری توقع سے کم رہا، سفارتکاری اب پہلے سے زیادہ آسان ہے” — ٹرمپ

IMG 20260301 WA1905


واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی حل اب پہلے سے کہیں زیادہ قابل حصول ہو گیا ہے۔
ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جب ان سے سفارتی حل کے امکانات پوچھے گئے تو انہوں نے کہا: "ایک دن پہلے کے مقابلے میں یہ اب ظاہری طور پر کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے، کیونکہ وہ بری طرح مار کھا رہے ہیں۔” انہوں نے حملوں کو "اس ملک اور پوری دنیا کے لیے ایک عظیم دن” قرار دیا۔ 
ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ خامنہ ای کی موت کے بعد ایران میں کمان کس کے ہاتھ میں ہے، تو انہوں نے کہا: "مجھے بالکل معلوم ہے، لیکن بتا نہیں سکتا۔” جب پوچھا گیا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ کوئی مخصوص شخص ایران کی قیادت کرے تو انہوں نے کہا: "ہاں، کچھ اچھے امیدوار موجود ہیں۔” 
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے محض مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوشش نہیں، بلکہ ٹرمپ 47 سالہ ایران۔امریکہ تنازع کو مکمل طور پر حل کر کے تاریخ میں اپنا نام درج کروانا چاہتے ہیں۔ 
تاہم ترکی کے صدر ایردوان نے خبردار کیا کہ اگر سفارتکاری کے لیے جگہ نہ بنائی گئی تو خطہ "آگ کے دائرے” میں آ سکتا ہے۔ 

متعلقہ پوسٹ