اسلام آباد / کراچی / لاہور — آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان بھر میں پھوٹ پڑنے والے احتجاج کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے اعلان کیا کہ دفعہ 144 کے تحت ہر قسم کے اجتماع کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا اور شہریوں سے درخواست کی کہ کسی بھی احتجاج یا مظاہرے میں شرکت سے گریز کریں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
تہران جافریہ پاکستان نے امریکی سفارتخانے کے گھیراؤ کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد حکام نے ریڈ زون سیل کر دیا، تمام راستوں پر بکتر بند گاڑیاں تعینات کی گئیں اور پولیس نے میڈیا ٹیموں کو بھی علاقہ چھوڑنے کی ہدایت کی۔ مظاہرین کو سیرینا چوک پر روکا گیا جہاں شیلنگ کی گئی جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔
کراچی میں امریکی قونصل خانے کی طرف مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوا۔ سول ہسپتال کراچی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد صابر میمن نے تصدیق کی کہ 10 افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے۔ تمام زخمی گولیوں سے متاثر تھے۔ سندھ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی جے آئی ٹی تشکیل دے۔
لاہور میں شملہ پہاڑی پر امریکی قونصل خانے کے باہر بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ رینجرز کو پولیس کے ساتھ تعینات کیا گیا۔ علامہ سید جواد نقوی کی قیادت میں چیئرنگ کراس سے امریکی قونصل خانے تک ریلی نکالی گئی۔
امریکی سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ کراچی اور لاہور میں امریکی قونصل خانوں کے باہر جاری مظاہروں اور اسلام آباد و پشاور میں متوقع احتجاج کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ مقامی خبروں پر نظر رکھیں، بڑے ہجوم سے دور رہیں اور اپنی STEP رجسٹریشن کو اپ ڈیٹ رکھیں۔

