تہران، 1 مارچ 2026 – ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، اسرائیلی اور امریکی حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اتوار کو ایک تین رکنی عبوری قیادت کونسل تشکیل دی گئی ہے جو رہبر کے فرائض سر انجام دے گی۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، یہ کونسل ماہرین کی اسمبلی نیا رہبر منتخب کرنے تک قیادت کے فرائض انجام دے گی۔ خبر رساں ادارے ایس این اے نے بتایا کہ گارڈین کونسل کے عالم رکن آیت اللہ علی رضا اعرافی کو اس کونسل کا فقیہ رکن مقرر کیا گیا ہے۔
عبوری قیادت کونسل میں آیت اللہ علی رضا اعرافی، صدر مسعود پزشکیان اور چیف جسٹس غلامحسین محسنی ایجی شامل ہیں۔ یہ کونسل آئین کے آرٹیکل 111 کے تحت عبوری انتظامی باڈی کے طور پر کام کرے گی۔
86 سالہ خامنہ ای، جو 1989 سے اس عہدے پر فائز تھے، ہفتے کے روز ہونے والے حملوں میں شہید ہو گئے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے 40 دن کے سوگ اور سات دن کی عوامی تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے خامنہ ای کے ’’قاتلوں‘‘ کو سزا دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد اور پوتی بھی شہید ہوئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ہفتے کے روز خامنہ ای کی شہادت کا دعویٰ کیا۔ امریکی ذرائع کے مطابق حملے اس وقت کیے گئے جب خامنہ ای اپنے اعلیٰ معاونین کے ساتھ ملاقات کر رہے تھے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ سابق قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی اور آئی آر جی سی کمانڈر محمد پاکپور بھی ہلاک ہوئے۔
بعد ازاں دو ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ حملوں سے کچھ دیر پہلے خامنہ ای نے شمخانی اور قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی سے ملاقات کی تھی۔
عبوری قیادت کونسل کی تشکیل علاقائی کشیدگی کے عروج کے وقت اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے ایک تاریخی منتقلی کی نشاندہی کرتی ہے۔

