واشنگٹن / لندن —
امریکی فوج کے انتہائی جدید اور سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس بی-2 اسپرٹ بمبار طیاروں نے آپریشن "ایپک فیوری” کے تحت ایران کی زیرزمین بیلسٹک میزائل تنصیبات پر کامیاب حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی کہ طیاروں نے دو ہزار پاؤنڈ وزنی بموں سے ایران کے مضبوط زیرزمین میزائل اڈوں کو نشانہ بنایا۔
چار بی-2 بمبار طیاروں نے امریکہ سے براہِ راست پرواز کرتے ہوئے ایران کے زیرزمین بیلسٹک میزائل اڈوں پر درجنوں دو ہزار پاؤنڈ بم گرائے۔
برطانیہ نے اپنے RAF فیئرفورڈ اور ڈیاگو گارشیا اڈے امریکی بمبار طیاروں کے لیے کھول دیے، جس سے امریکی فضائیہ کی مارنے کی صلاحیت چار گنا زیادہ ماہرین کے مطابق اس فیصلے نے مہم کی نوعیت یکسر بدل دی ہے اور ایران کے میزائل کارخانوں اور فوجی تنصیبات پر کہیں زیادہ بھاری حملے ممکن ہو گئے ہیں۔
یہ دوسرا موقع ہے جب بی-2 طیاروں کو ایران کے خلاف استعمال کیا گیا — پہلی بار جون 2025 میں "آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کے دوران فورڈو، اصفہان اور نتانز کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آپریشن کے دوران ایران کے نو بحری جہاز تباہ اور ڈبو دیے گئے اور ایرانی بحریہ کا ہیڈکوارٹر بھی بڑی حد تک تباہ کر دیا گیا۔
ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرون سے نشانہ بنایا۔

