کراچی — پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے آل شیئر انڈیکس کی شرعی اسکریننگ میں نظرثانی کرتے ہوئے کمپنیوں کے غیر شرعی قرضوں کی حد میں 4 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جسے اسلامی سرمایہ کاری کے فروغ کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق شرعی اسکریننگ کے معیار میں یہ تبدیلی اسلامی مالیاتی اصولوں کے ساتھ سرمایہ کاری کو مزید ہم آہنگ کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ نئے معیار کے تحت وہ کمپنیاں جن کے قرضوں میں غیر شرعی عنصر مقررہ حد سے زائد ہوگا، انہیں شرعی طور پر قابل سرمایہ کاری فہرست سے خارج کیا جا سکے گا۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے اسلامی بینکاری اور حلال سرمایہ کاری کے شعبے میں سرگرم افراد اور ادارے زیادہ اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکیں گے۔ اس اقدام سے پاکستان کی اسلامی مالیاتی مارکیٹ کو بین الاقوامی معیارات کے قریب لانے میں بھی مدد ملے گی۔
تاہم مارکیٹ کے بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سخت معیار کے نفاذ سے شرعی انڈیکس میں شامل کمپنیوں کی تعداد متاثر ہو سکتی ہے، جس کا اثر سرمایہ کاروں کے پورٹ فولیو پر بھی پڑ سکتا ہے۔

