پاسداران انقلاب کے ترجمان امریکہ-اسرائیل حملے میں قتل

393689 952248350


ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 18ویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

  • ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 19 مارچ 2026 تک ایران میں 1,444، اسرائیل میں کم از کم 18، 13 امریکی فوجی اور خلیجی ریاستوں میں 21 اموات ہوچکی ہیں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس


دن 2 بج کر 45 منٹ

پاسداران انقلاب کے ترجمان امریکہ-اسرائیل حملے میں قتل

ایران کے پاسداران انقلاب نے جمعہ کو تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور اسرائیلی حملوں میں ان کے ترجمان علی محمد نائینی مارے گئے ہیں۔

خبر رساں دارے اے ایف پی کے مطابق پاسداران انقلاب نے سپاہ نیوز ویب سائٹ پر بیان میں کہا ہے کہ ’نائینی الاصبح امریکہ-صہیونی کے دہشت گردانہ، بزدلانہ مجرمانہ حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔‘

علی محمد نائینی کی موت کے بارے میں اسرائیلی فوج نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں بتایا ہے۔


دن 1 بج کر 50 منٹ

برطانوی اڈوں کا استعمال جارحیت میں شمولیت تصور ہوگی: ایران کی تنبیہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے برطانوی ہم منصب ایوٹ کوپر سے ٹیلیفون پر گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال کرتا ہے تو ایران اسے جارحیت میں برطانیہ کی شمولیت سمجھے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق عباس عراقچی نے کہا ہے ہے کہ ’یہ اقدامات یقیناً جارحیت میں شمولیت کے طور پر دیکھے جائیں گے اور دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ میں درج ہوں گے۔‘

تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ گفتگو کب ہوئی اس بارے میں تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔


دن 12 بج کر 37 منٹ

جنگ کے باوجود میزائلوں کی پیداوار جاری: پاسداران انقلاب

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے جمعہ کو کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے باوجود اسلامی جمہوریہ نے میزائلوں کی پیداوار جاری رکھی ہوئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فارس نیوز نے پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان علی محمد نائنی  کے حوالے سے رپورٹ کیا: ’ہماری میزائل انڈسٹری مکمل نمبر لینے کی مستحق ہے… اور اس حوالے سے کوئی تشویش نہیں، کیونکہ جنگی حالات میں بھی ہم میزائلوں کی پیداوار جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘


دن 12 بج کر 15 منٹ

سری لنکا کا امریکی جنگی طیاروں کو رسائی دینے سے انکار

سری لنکن صدر انورا کمارا ڈِسنایاکے نے جمعہ کو پارلیمان کو بتایا کہ سری لنکا نے مارچ کے اوائل میں امریکہ کو جزیرے کے جنوبی حصے کے ایک ہوائی اڈے پر اپنے دو جنگی طیارے تعینات کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سری نکا کے صدر نے کہا کہ ’وہ (امریکی) جبوتی میں موجود ایک اڈے سے آٹھ اینٹی شپ میزائلوں سے لیس دو جنگی طیارے 4 سے 8 مارچ کے درمیان مٹالا راجا پکسا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لانا چاہتے تھے، لیکن ہم نے ’منع‘ کر دیا۔‘

سری لنکا کے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جو اس کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جبکہ ایران بھی اس کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور خاص طور پر چائے کا بڑا خریدار ہے، جو سری لنکا کی اہم برآمدی پراڈکٹ ہے۔


دن 12 بجے

ہماری تنصیبات پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو کوئی ضبط نہیں برتا جائے گا: ایرانی وزیر خارجہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ان کی تنصیبات پر حملے کے جواب میں ایران نے اپنی طاقت کا ’صرف ایک حصہ‘ استعمال کیا ہے۔

انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’ہم نے اپنی طاقت کا صرف ایک حصہ استعمال کیا۔ ضبط کی واحد وجہ کشیدگی کم کرنے کی درخواست کا احترام تھا۔‘

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ’اگر ہماری تنصیبات پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو کوئی ضبط نہیں برتا جائے گا۔

’اس جنگ کے خاتمے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہمارے شہری مقامات کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔‘


دن 11 بج کر 11 منٹ

سعودی عرب نے متعدد ڈرون مار گرائے، ایرانی حملوں کا سلسلہ جاری

سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ جمعہ کی صبح فضائی دفاعی نظام نے 26 ڈرونز کو مار گرایا جبکہ خلیجی ممالک پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

عرب نیوز کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ کویت اورمتحدہ عرب امارات بھی میزائل حملوں اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق زیادہ تر ڈرونز کو مشرقی علاقوں پر مار گرایا گیا، جہاں مملکت کی بڑی آئل ریفائنریز واقع ہیں، جبکہ ایک ڈرون کو شمالی صوبے میں تباہ کیا گیا۔

بحرین کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ایک دھماکے کے نتیجے میں ایک گودام میں آگ بھڑک اٹھی تاہم اس پر قابو پا لیا گیا ہے اور اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بحرین نے اسے ’ایرانی جارحیت‘ قرار دیا ہے۔


صبح 10 بجے

کویتی آئل ریفائنری، دیگر خلیجی ممالک پر حملے جاری

کویت کی مینا الاحمدی آئل ریفائنری پر جمعہ کو ڈرون حملے ہوئے ہیں جس سے آگ لگ گئی لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا دوسری جانب جبکہ دوسری جانب خلیجی ممالک پر بھی ایران کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سرکاری کویت نیوز ایجنسی نے قومی تیل کمپنی کے حوالے سے کہا۔ ’مینا الاحمدی ریفائنری… آج صبح کئی دشمن ڈرون حملوں کا شکار ہوئی، جس سے اس کے کچھ یونٹس میں آگ لگ گئی،‘ اور مزید کہا کہ ’کئی ریفائنری یونٹس بند کر دیے گئے ہیں۔‘


صبح 9 بج کر 45 منٹ

اسرائیل کے ایران پر حملوں کا سلسلہ پھر سے شروع

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ گذشتہ رات اسرائیل پر ایرانی میزائل داغے جانے کے بعد، اس نے جمعے کو علی الصبح تہران پر حملوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق ایک فوجی بیان میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز نے ’تہران بھر میں ایرانی دہشت گرد حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا ہے۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے اس اعلان کے بعد کہ جنگ نے ایران کو ’تباہ‘ کر دیا ہے، ایران نے جمعرات کو رات گئے اسرائیل پر میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

ابتدائی حملوں میں سے ایک کے دوران بیت المقدس کے شہر بھر میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے۔ اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے شہر کے اوپر کئی زور دار دھماکے سنے۔

میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمرجنسی سروسز نے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی تاہم پولیس نے کہا کہ کئی مقامات پر نقصان ہوا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ شمالی شہر حیفہ اور اس کے مضافات میں ایک تعلیمی ادارے پر میزائل کے ٹکڑے گرے۔


صبح 9 بجے

امریکی ایف 35 سٹیلتھ جنگی طیارے کی ہنگامی لینڈنگ

امریکی میڈیا نے جمعرات کو رپورٹ کیا ہے کہ ایک امریکی ایف 35 سٹیلتھ جنگی طیارے نے مبینہ ایرانی فائرنگ کی زد میں آنے کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے اے بی سی اور سی این این سمیت دیگر اداروں کی اطلاعات کی تصدیق کیے بغیر ایک بیان میں کہا، ’طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا، اور پائلٹ کی حالت مستحکم ہے۔‘

ٹم ہاکنز نے مزید کہا کہ ’اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔‘

ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ متعدد طیاروں سے محروم ہو چکا ہے، جن میں کویتی فورسز کے ہاتھوں غلطی سے مار گرائے گئے تین ایف 15 اور عراق میں تباہ ہونے والا ایک کے سی 135 ری فیولنگ طیارہ شامل ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ ایرانی فائرنگ کا نشانہ بنا ہو۔

خطے میں امریکی فوجی دستوں کی، جن میں ایف 35 طیارے بھی شامل ہیں، بھاری تعداد جمع ہونے کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک وسیع فضائی مہم شروع کر رکھی ہے۔

28 فروری کو اس آپریشن کے آغاز کے بعد سے اب تک 13 امریکی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ چھ نے کے سی 135 طیارے کے حادثے میں اور سات جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایرانی حملوں میں جان گنوائی۔

امریکی فوج کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک مشرق وسطیٰ کے سات ممالک میں لگ بھگ 200 امریکی فوجی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے بیشتر پہلے ہی اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ