(ویب ڈیسک)آسٹریلیا نے بھارتی طلبا کے لیے سٹوڈنٹ ویزا کی جانچ پڑتال مزید سخت کردی ہے۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق آسٹریلیا نے سٹوڈنٹ ویزا کے لیے بھارت کو ’ہائیسٹ رسک کیٹیگری‘ میں شامل کردیا ہے۔
یہ نئی درجہ بندی 8 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہو گئی ہے، جس کے تحت بھارت کو سادہ سٹوڈنٹ ویزا فریم ورک (SSVF) میں ایویڈنس لیول 2 سے بڑھا کر ایویڈنس لیول 3 میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
آسٹریلوی میڈیا کے مطابق یہ درجہ بندی معمول کے شیڈول سے ہٹ کر کی گئی ہے۔
بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق نئی درجہ بندی کےبعد بھارتی طلبا کی مالی حیثیت، تعلیمی پس منظر اور انگریزی ٹیسٹ کو زیادہ سختی سے پرکھا جائےگا۔
آسٹریلیا کے سٹوڈنٹ ویزا کے حصول کے خواہشمند بھارتی طلباکی جانچ پڑتال انتہائی باریک بینی سے کی جائے گی، ان سے مزید دستاویزات طلب کی جاسکتی ہیں اور بینک سٹیٹمنٹس کی اسی وقت تصدیق کے ساتھ اضافی شواہد بھی مانگے جاسکتے ہیں۔ ویزا افسران کو بھارتی طلبا کی ڈگری کی تصدیق کے لیے تعلیمی اداروں سے براہ راست رابطہ کرنےکا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
آسٹریلیاکی بین الاقوامی تعلیمی ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو فل ہنی وُڈ نے جعلی ڈگریوں کے معاملے کو سنگین قرار دیا ہے۔
فل ہنی وُڈ کے مطابق امریکا،برطانیہ اورکینیڈا میں جعلی تعلیمی اسناد پرداخلہ نہ ملنے پر طلبا کی بڑی تعداد آسٹریلیا کا رخ کر رہی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی پولیس اب تک جعلی ڈگری مافیا سے100 کروڑ روپےمالیت سے زائدکی جعلی اسناد ضبط کرچکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام میں فراڈ اورجعلی ڈگریوں میں اضافہ نے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید متاثر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کمزور ترین پاسپورٹ رکھنے والے ملکوں میں پاکستان کا کونسا نمبر ؟ پاکستانی کتنے ممالک میں ویزا فری سفر کر سکتے ہیں؟


